سوال:
میں 20 سالہ لڑکی ہوں، میرے والد (عمر 60 سال) عام طور پر میرے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کرتے، وہ زیادہ تر اپنے بھائی، بھتیجوں اور بھتیجیوں یعنی اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔
ان کی ایک بھتیجی (یعنی میری کزن، عمر 43 سال) کو اپنے سسرال میں شدید مسائل درپیش ہیں اور وہ میرے والد کو ان معاملات میں شامل کر لیتی ہیں۔ میرے والد دل کے مریض ہیں اور جب وہ اس کے سسرال والوں کے ساتھ سخت بحث و تکرار کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کا مزاج خراب ہو جاتا ہے اور وہ گھر آ کر مجھ پر اور میری والدہ پر غصہ کرتے ہیں اور جھگڑتے ہیں۔
یہ معاملہ تقریباً ایک مہینے سے جاری ہے، وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات بھی نہیں کرتے اور سیدھا انہی مسائل میں لگے رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
جواب: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ برتاؤ میں احسان یعنی اچھے سلوک کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: "اور الله کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو" (النساء: 36)
جبکہ ایک دوسری جگہ بڑھاپے میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی طرف سے پیش آنے والی کسی بھی بات پر صبر کرنے اور کسی بھی قسم کی ناگواری کے اظہار سے منع کیا گیا ہے:
ترجمہ: "اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔"(بنی اسرائیل: 23)
مذکورہ دونوں آیات کریمہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ والدین کے معاملے میں بدلہ لینے میں مساوات کے عام اصول لاگو نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہاں ہر جائز بات میں والدین کی فرماں برداری اور اطاعت مطلوب ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے والد بزرگوار کی طرف سے پہنچنے والی اس تکلیف پر صبر کریں اور اس مشکل گھڑی میں ان کے آرام و سکون کا خصوصی خیال رکھیں، علاؤہ ازیں قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے والدین کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی کریں، آپ کا یہ عمل ان شاءاللہ تعالیٰ دینا و آخرت میں آپ کی کامیابی و کامرانی کا ذریعہ بنے گا۔
یہاں آپ کے والد صاحب کو بھی اپنے رویّہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ دین اسلام میں بیوی بچوں کے حقوق واضح بیان کیے گئے ہیں، اور ان کی پاسداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا بلا وجہ بیوی بچوں کو ڈانٹنا اور ان سے جھگڑنا یا ان کو تکلیف پہنچانا ایذاء مسلم کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (سورۃ النساء، رقم الآیۃ: 36)
وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡئًا ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا O
القرآن الکریم: (سورۃ بنی اسرائیل، رقم الآیۃ: 23)
وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا O
مشکوٰۃ المصابیح: (2/281، ط: قدیمی کتب خانہ)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي"۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی