resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مستقبل کے الفاظ سے طلاق دینے کا حکم

(39882-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں کہا کہ "اگر تم مزید بولی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا" اور بعد میں نہیں دی تو کیا ایسا بولنے سے طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب: واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کرنا ضروری ہے جو صیغۂ ماضی یا حال پر دلالت کرتے ہوں، محض مستقبل کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ: “اگر تم مزید بولی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا” سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ یہ جملہ آئندہ کے لیے دھمکی یا وعدہ ہے، اور اس طرح کے الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 38، ط: دار المعرفة)
‌صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام

الدر المختار: (3/ 319، ط: سعید)
طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة، ما لم يتعارف أو تنو الإنشاء فتح

الفتاوى الهندية: (1/ 384، ط: دار الفکر)
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا ... سئل نجم الدين عن رجل قال لامرأته اذهبي إلى بيت أمك فقالت طلاق ده تابروم فقال تو برو من طلاق دمادم فرستم قال لا تطلق لأنه وعد كذا في الخلاصة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce