resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والد صاحب سے دکان خریدنے کے بعد بقیہ رقم کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا

(39888-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب نے اپنی ایک دکان پندرہ لاکھ روپے میں اپنے دو بیٹوں کو فروخت کی، ان دونوں بیٹوں نے صرف ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کیے اور باقی رقم ادا نہیں کی، اس کے باوجود انہوں نے والد صاحب سے یہ کہہ کر دستخط کروا لیے کہ پوری رقم بعد میں ادا کر دی جائے گی، مگر کاغذات مکمل کرا لیے۔ بعد میں انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ ہمارے پاس باقی رقم نہیں ہے، اب والد صاحب سخت پریشان ہیں کہ نہ پوری رقم ملی اور دکان بھی ان کے قبضے سے نکل گئی۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
کیا ایسی خرید و فروخت شرعاً درست ہے جبکہ پوری رقم ادا نہیں کی گئی اور بعد میں ادا کرنے کی نیت بھی ظاہر نہیں کی گئی؟ کیا یہ عمل دھوکہ اور ناجائز شمار ہوگا؟ اس صورت میں دکان کس کی ملکیت شمار ہوگی؟
کیا باقی بیٹوں (جو اس خرید و فروخت میں شامل نہیں تھے) کا اس دکان میں کوئی حق بنتا ہے؟ اس معاملے کی شرعی اصلاح کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً والد صاحب نے دکان ان دو بیٹوں کو پندرہ لاکھ میں باقاعدہ فروخت کردی تھی تو اگرچہ پوری رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی، تب بھی خرید وفروخت کا یہ معاملہ شرعاً درست ہوگیا تھا، چنانچہ یہ دکان ان بیٹوں کی ملکیت شمار ہوگی، اور ان دونوں پر بقیہ رقم کی ادائیگی لازم ہے، نیز دیگر بیٹوں کا اس دکان میں شرعاً کوئی حق نہیں ہے، البتہ اگر واقعتاً مذکورہ بیٹوں کی نیت بقیہ رقم ادا کرنے کی نہیں ہے تو یہ بلا وجہ حق کی ادائیگی میں ٹال مٹول اور اپنے والد کی ایذاء رسانی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ظلم، سخت گناہ اور ناجائز ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، اور جلد از جلد بقیہ رقم کی ادائیگی شرعاً ضروری ہے۔
نیز اگر ان دونوں بیٹوں کے پاس ادائیگی کے لئے رقم نہیں ہے، اور نہ ہی ادائیگی کی کوئی اور صورت ممکن ہے تو ان کو چاہیے کہ مذکورہ دکان والد صاحب کو واپس کرکے اپنی ادا کی گئی رقم واپس لے لیں، یا دکان بیچ کر والد صاحب کو بقیہ رقم کی ادائیگی کردیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*قال اللہ تعالیٰ:[المائدة: 1]*
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾

*صحيح مسلم (1/ 69):*
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: *« من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا »*

*صحيح البخاري (2/ 841):*
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:* (من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله)*

*صحيح البخاري (2/ 799):*
عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: *(‌مطل ‌الغني ‌ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع)*

*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (5 / 1956)*

قال: مطل الغني) : أي: تأخيره أداء الدين من وقت إلى وقت (ظلم) : فإن المطل منع أداء ما استحق أداؤه وهو حرام من المتمكن، ولو كان غنيا ولكنه ليس متمكنا جاز له التأخير إلى الإمكان ذكره النووي.

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 233):*
(أما) الأول: فهو ‌ثبوت ‌الملك ‌للمشتري ‌في ‌المبيع، وللبائع في الثمن للحال

*الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 55):*
"‌الإقالة ‌جائزة ‌في ‌البيع ‌بمثل ‌الثمن ‌الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما.

*فقه البيوع (1/534):*
أما البيع الحال، فحكمه أنه متى وقع البيع، استحق المشترى مطالبة تسليم المبيع، واستحق البائع مطالبة تسليم الثمن فوراً. وإن أعطى أحدهما الآخر مهلة لتسليم ما عليه، فإنه تطوع، وليس حقاً له. ولذلك إن أمهله إلى أجل غير معلوم، مثل ما يقول بعض التجار لبعض أهل معرفته: "أن الثمن متى شئت " فإنه بيع حال أمهل فيه البائع المشتري تطوعاً. ولذلك يحق له أن يُطالبه بالثمن متى شاء. ولو كان بيعاً مؤجلاً، لفسد البيع، لجهالة الأجل، ولكنه جائز على كونه حالاً.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial