resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرحوم کے قضاء نمازوں اور روزوں کے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنے کے بعد ترکہ کی تقسیم

(39900-No)

سوال: السلام علیکم! میرے والد صاحب کا انتقال بروز اتوار یکم مارچ ہو گیا ہے، لواحقین میں میری والدہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرے والد صاحب کے درج ذیل اثاثہ ہیں:
مکان جس میں والدہ اور ایک بیٹا رہتا ہے، دو بینک اکاؤنٹ جس میں کچھ رقم ہے اور متعدد کمپنیوں کے شئیرز ہیں۔ میرے والد صاحب کے اوپر تیس سال کی نمازیں قضا ہیں اور پانچ سال کے روزہ ہیں، انہوں نے وصییت کی تھی کہ اس کا فدیہ ادا کردیجیے گا۔ گزارش ہے کہ وراثت کی تقسیم میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں مرحوم کے مکمل ترکہ (مکان، رقم اور شیئرز) میں سے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) ترکہ سے مرحوم کی نماز اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا، لیکن اگر ایک تہائی مال سے تمام نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا نہ ہو سکے تو باقی ماندہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنا ورثاء کے ذمّے لازم نہیں ہے، تاہم اگر ورثاء اپنی خوشی سے مرحوم کی بقیہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر دیں، تو یہ ان کی طرف سے تبرّع اور احسان ہوگا۔ اس کے بعد بقیہ دو تہائی (2/3) ترکہ مرحوم کے ورثاء (بیوی، تین بیٹوں اور ایک بیٹی) میں شریعت کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
لہذا مرحوم والد کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو کل آٹھ (8) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوی کو ایک (1)، تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) اور بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے بیوی کو %12.5 فیصد حصہ، تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو %25 فیصد حصہ اور بیٹی کو %12.5 فیصد حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ... الخ

و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ

الدر المختار مع رد المحتار: (72/2، ط: دار الفکر)
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر).
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.
واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster