سوال:
مفتی صاحب! ایک خود سر لڑکی نے رشتے کے معاملے میں گھر والوں کو کافی پریشان کر رکھا تھا، رشتے بہت آتے، مگر اس کا انکار ہوتا، آخر کار ایک طالب علم کے رشتے پر حامی بھرلی، شادی کے سارے معاملات دن، تاریخ سب لڑکی کی مرضی سے ہوا، اب شادی کے بعد میاں بیوی میں اکثر جگھڑے ہوتے، شوہر بیوی کو بری طرح سے مارتا پیٹتا، لڑکی ناراض ہو کر ماں کے ہاں آتی، لڑکی کے بھائیوں کو غصہ آتا، وہ لڑکے کو سبق سکھانے کے لیے کوئی پلان بناتے، اتنے میں لڑکی لڑکے سے رابطہ کر کے اسے سب بتا دیتی، پلان ناکام ہو جاتا، کئی بار ایسا ہوا، (جس کا اقرار لڑکی نے طلاق کے بعد خود کیا) آخر کار گھر کے بڑے چاچا، مامو، بہن، بھائی بیٹھ کر راضی نامہ کروا دیتے (جو کہ لڑکی بعد میں خود بھی یہی چاہتی) اور گھر بھجوا دیتے، یہی سب چلتا رہا، لڑکے کا دورہ حدیث کا سال شروع ہوا تو اکثر کہتا کہ جس دن میں فارغ ہو جاؤں گا تمہیں بھی فارغ کر دوں گا، آخر کار بروز جمعرات آخری پرچہ تھا، اس کے صبح بروز جمعہ ناشتے میں انڈہ نہ لانے کی وجہ سے دونوں میں تکرار ہوئی اور اسی وقت تین طلاق دے کر آزاد کر دیا، طلاق کے بعد مہر اور کئی معاملات جو شوہر کے ذمے واجب تھے، اس کو ادا کرنے سے پیچھے ہٹنے لگا، کئی جرگے ہوئے اور مکمل ادائیگی ہو گئی، اس دوران لڑکی لڑکے کا پھر فون پر رابطہ رہنے لگا ، یہ دونوں پھر ایک ہونا چاہتے تھے مگر گھر کے کسی فرد سے ذکر نہ کیا۔
یاد رہے کہ طلاق کے وقت ایک سال کی بچی تھی اور عورت حاملہ تھی، پانچ ماہ بعد بیٹا ہوا،پھر بچوں کے بارے میں جھگڑا تھا ،دونوں میں ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ بچے میرے پاس رہیں، آخر کار جرگے میں یہ فیصلہ ہوا کہ بچے ماں کے پاس رہیں گے، لڑکی نو سال تک، لڑکا سات سال تک، اس کے بعد بچوں کو ان کا باپ لے جا سکتا ہے، کوئی روک نہیں سکتا، لڑکا اس فیصلے پر راضی، لڑکی کو بہت سے لوگوں نے سمجھایا اپنی عمر برباد کر رہی ہو، بچوں نے بعد میں جانا ہی ہے تو ابھی دے دو اور کہیں اور شادی کر لو ،کسی نے کہا ایک بار بچے دے کر دیکھو ،بہت چھوٹے ہیں سنبھال نہیں پائیں گے تو واپس دے دیں گے، اس نے ایسا ہی کیا، جب 15 دن بعد وہاں ملاقات کے لیے جاتی تو بچے بہت بیمار ہوتے اور انتہائی گندی حالت میں ہوتے، اس پر لڑکی پھر سے اپنے گھر والوں سے جھگڑتی اور لڑنا جھگڑنا اس کا روز کا معمول بن گیا، گھر والوں کا سکون، رات کی نیند حرام ہو گئی، کیونکہ جھگڑے اتنے بڑھ گئے تھے کہ پوری پوری رات گزر جاتی، گھر والوں کو اپنے عزت کا ڈر رہتا پھر اس نے گھر والوں کو دھمکی دی کہ میرا نکاح کروا دو ورنہ میں بہت بڑا قدم اٹھا لوں گی، تو لڑکی کے خالہ خالو نے لڑکی کا نکاح اس کی مرضی سے وہاں کروایا جہاں لڑکی اور سابقہ شوہر نے مل کر ترتیب بنائی تھی اور وہ بھی صرف ایک رات کے لیے، جاتے وقت لڑکی نے باقاعدہ ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کیا کہ یہ سب میں اپنی مرضی سے کر رہی ہوں اور اپنے بچوں کے کے بغیر نہیں رہ سکتی، چاہے اس کے لیے مجھے اپنا پورا خاندان کیوں نہ چھوڑنا پڑے، بھائیوں اور سب نے کہا کہ پھر ہم سے دوبارہ کوئی واسطہ نہیں ہوگا، تم ہمہارے جنازے پر بھی مت آنا ، اس نے اقرار کیا اور چلی گئی، اب ڈھائی سال سے سابقہ شوہر کے حلالہ کر کے رہ رہی ہے ،بھائیوں نے اپنی عزت کا کو پامال ہوتے دیکھ کر اس سے رابطے ختم کر دیے، اب سوال یہ ہے کہ اس لڑکی سے رابطے ختم کرنا قطع تعلقی کے زمرے میں آئے گا ؟ کیونکہ لڑکی کی فطرت شر اور فساد والی ہے، اگر اس کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کرتے تو اس کے روز کے جھگڑے فساد پھر روز اول کی طرح ہوں گے ،کیونکہ تعلقات نہ ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طرح فساد بنانے کی کوشش کرتی ہے، کبھی کسی نیو نمبر سے میسج کیا کہ ان کے سارے نمبر بلاک کر رکھے ہیں کبھی کسی کے ذریعے سے ۔ رہنمائی فرمائیں۔
جواب: بہن جھگڑالو ہو تب بھی اس سے یکسر قطع تعلّقی کرنا جائز نہیں ہے، بھائیوں کو چاہیے کہ اپنی طرف سے جس حد تک صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرسکیں، اس حد تک کرتے رہیں، اور جو بہن کے جائز حقوق آپ بھائیوں کے ذمہ لازم ہیں، انہیں پورا کرتے رہیں، چاہے بہن آپ کے ساتھ کوئی بھی سلوک اختیار کرے، کیونکہ ہر ایک کو اس کے اپنے عمل کی جزا اور سزا ملے گی اور آپ کے اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے اللہ پاک آپ کو دنیا و آخرت کی برکتوں اور خیروں سے نوازے گا۔
ایک حدیث مبارکہ میں ہے: رسول الله ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اللہ ہوں اور میں رحمٰن ہوں "رَحِم" (صلہ رحمی) کو میں نے پیدا کیا ہے، اور میں نے اپنے نام يعنی رحمن میں سے شق کرکے نام دیا ہے، لہذا جو شخص رشتوں ناتوں کو جوڑ کر رکھے گا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، اور جو رشتوں ناتوں کو کاٹے گا (قطع رحمی كرے گا) میں اس کو اپنے سے کاٹوں گا"۔ (سنن ترمذی: حديث نمبر: 1907)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذي: (3/ 471، رقم الحديث: 1907، ط: دار الغرب الإسلامي)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: «اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ» فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: قَالَ اللهُ: أَنَا اللهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ.
وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ.
حَدِيثُ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثٌ صَحِيحٌ. وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَمَعْمَرٍ، كَذَا يَقُولُ قَالَ: مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ خَطَأٌ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی