سوال:
پہلے شادی کی تقریبات میں دلہا اور دلہن کی انٹری کے وقت گانے چلائے جاتے تھے، لیکن اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ شادی کی تقریب میں قرآنِ پاک کی تلاوت پر دلہا اور دلہن کی انٹری کرواتے ہیں۔ گانے چلانا تو بالکل مناسب نہیں، لیکن کیا اس طرح قرآنِ پاک کی تلاوت پر دلہا اور دلہن کی انٹری کرنا درست ہے؟براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر محض رسم کے طور پر نہیں بلکہ برکت کی نیّت سے قرآنِ کریم کی تلاوت لگانا مقصود ہو، اور حاضرین بھی اس کی عظمت و احترام کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پوری توجّہ اور خاموشی کے ساتھ تلاوت سنیں تو ایسی صورت میں تلاوت لگائی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
التفسير المظهري:(452/3،ط:رشيدية)
ﺇﺫا ﻗﺮﺉ اﻟﻘﺮاﻥ ﻟﻠﻌﻬﺪ ﺩﻭﻥ اﻟﺠﻨﺲ ﻭاﻟﻤﺮاﺩ ﺑﻪ اﻟﻘﺮاﻥ اﻟﻤﻘﺮ ﻭﻻﺳﺘﻤﺎﻋﻜﻢ ﻛﺎﻻﻣﺎﻡ ﻳﻘﺮﺃ ﺣﺘﻰ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ ﺧﻠﻔﻪ ﻭاﻟﺨﻄﻴﺐ ﻳﻘﺮﺃ ﻟﻠﺘﺨﺎﻃﺐ ﻭاﻟﻤﻘﺮﻱ ﻳﻘﺮﺃ ﻋﻠﻰ اﻟﺘﻠﻤﻴﺬ ﻭاﻟﻠﻪ اﻋﻠﻢ
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی