resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حرام پیسوں سے خریدے گئے لیپ ٹاپ کو جائز کاموں میں استعمال کر نے پر کمائی کا شرعی حکم

(39905-No)

سوال: میں بنگلہ دیش سے ہوں اور میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں نے حرام پیسوں سے کمپیوٹر خریدا ہو، اور میں اسی کمپیوٹر کو استعمال کر کے اچھا (جائز) کام کروں اور پیسہ کماؤں تو کیا وہ کمائی حلال ہوگی؟ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: حرام پیسوں سے شروع میں چونکہ لیپ ٹاپ خریدنا جائز نہیں تھا، لہذا ان پیسوں کو اصل مالک یا اس کے ورثاء تک لوٹانا واجب ہے، اگر اصل مالک یا اس کے ورثاء کو رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو تو اتنی رقم اصل مالک کی طرف سے بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے، البتہ حرام پیسوں سے خریدے گئے لیپ ٹاپ کو جائز کاموں میں استعمال کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری علی خمسۃ أوجہ، 235/2، ط: سعید)
رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔

رد المحتار: (باب البیع الفاسد، 300/7، ط: زکریا)
"الحرام ینتقل ای تنتقل حرمتہ وان تداولتہ الایدی وتبدلت الاملاک .... والحاصل ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم والافان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial