resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نافرمان بیٹے کو عاق کرکے بیٹیوں کو جائیداد دینا

(39907-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اپنے بچوں (دو بیٹیوں اور ایک بیٹے) میں میری ملکیت (بنیادی طور پر ایک رہائشی مکان اور تین گاڑیاں) تقسیم کرتے ہوئے میں اسے اپنی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں، وجہ بیٹے کی نافرمانی بنتی ہے۔ کیا میں وراثت کے بارے میں قرآنی احکامات کے مطابق ایسا کر سکتا ہوں؟

جواب: واضح رہے کہ عاق کرنے کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے، لہذا اگر والد بیٹے کو عاق کردے تو وہ میراث سے محروم نہیں ہوگا، بلکہ عاق شدہ بیٹے کو بھی والد کی میراث میں سے اس کا شرعی حصہ ملے گا، بیٹا اگر نافرمان ہو تو اسے پیار محبت سے نصیحت کرتے رہیں، پدرانہ شفقت، اعلیٰ ظرفی اور عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے معاف کردیں۔ امید ہے کہ پیار محبت سے کی ہوئی نصیحت کا اس پر اثر ہوگا اور وہ نافرمانی چھوڑ دے گا۔ ان شاء اللہ
البتہ اگر بیٹا اس کے باوجود بھی نافرمانی سے باز نہ آتا ہو تو اس کی ممکنہ صورت یہ ہے کہ اپنے لیے اپنی جائیداد میں سے جتنا رکھنا چاہیں، اتنا رکھ کر بقیہ جائیداد اور دیگر چیزیں اپنی دونوں بیٹیوں کو مالکانہ تصرّف اور قبضہ کے ساتھ دے دیں، اس طرح کرنے سے وہ جائیداد اور دیگر چیزیں آپ کی ملکیت سے نکل کر بیٹیوں کی ملکیت میں چلی جائیں گی اور آپ کے انتقال کے بعد آپ کی وراثت میں وہ چیزیں شامل نہیں ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (كتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر، رقم الحدیث:5976، ط: دار طوق النجاة)
حدثني إسحاق، حدثنا خالد الواسطي، عن الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الا انبئكم باكبر الكبائر؟" قلنا: بلى يا رسول الله قال:" الإشراك بالله وعقوق الوالدين" وكان متكئا فجلس، فقال:" الا وقول الزور وشهادة الزور، الا وقول الزور وشهادة الزور" فما زال يقولها حتى قلت: لا يسكت.

رد المحتار: (کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل في دفع الدعاوی، 505/7، ط: سعید)
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.

فتح الباری: (كتاب اللباس، باب ما يجوز من الهجران لمن عصى، 497/10، ط: دار المعرفة)
"(قوله : باب ما يجوز من الهجران لمن عصى)
أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها ."

خلاصة الفتاوی: (کتاب الھبة، الفصل الثاني، 400/4، ط:رشیدیه)
"ولو أعطٰي بعض ولدہ شیئًا دون البعض لزیادۃ رشدہ لا بأس به وان کانوا سواء لا یىبغي أن یفضل ولو کان ولدہ فاسقًا فأراد أن یصرف ماله إلی وجود الخیر ویحرمه عن المیراث هذا خیر من ترکه لأن فیه إعانة علي المعصیة ولو کان ولدہ فاسقًا لا یعطٰي له أکثر من قوته ."

امداد الفتاویٰ جدید: (36/10، مکتبہ نعمانیہ)

امداد الاحکام: (589/4، مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster