سوال:
السلام علیکم! میں جیکٹس، گلوز، بوٹس اور شرٹس موٹر بائیک سوٹس وغیرہ بیچنا چاہتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو مشہور موٹر بائیک رائیڈرز ہوتے ہیں، لوگ ویسا ہی پہننا چاہتے ہیں جیسے ان کے سوٹس پر ہونڈا، کاواساکی وغیرہ کے لوگو لگے ہوتے ہیں تاکہ وہ برانڈڈ لگیں۔
ہم گاہک کی فرمائش پر ان برانڈز کے لوگو کی نقل بنا کر سوٹ، بوٹ، گلوز یا دیگر چیزوں پر لگا دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کسی دوسرے برانڈ کا نام یا لوگو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
کچھ برانڈز اس پر اعتراض بھی کرتے ہیں اور ہماری انٹرنیشنل مارکیٹ جیسے eBay / Etsy آن لائن شاپ پر جب ہم ایسے سوٹس اپلوڈ کرتے ہیں اور وہ اپنا لوگو دیکھ لیتے ہیں تو اسٹرائیک بھی دے دیتے ہیں، لیکن ہر برانڈ ایسا نہیں کرتا۔ شاید اصل میں سب کو اعتراض ہو لیکن کچھ ظاہر کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ ویسے یہ کام پوری دنیا میں شاید غیر قانونی بھی ہو مگر عام طور پر کیا جاتا ہے۔ اور آج کل انٹرنیشنل اور لوکل دونوں مارکیٹس میں ہر طرح کی پروڈکٹس کی کاپیز اور مختلف برانڈز کے لوگوز کا استعمال عام ہو چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ چیز بہت عام ہے۔ جیسے شرٹس، پینٹس، جیکٹس، ہوڈیز پر مختلف برانڈز کے لوگو لگے ہوتے ہیں، جوتوں پر نائکی، پوما وغیرہ کے لوگو ہوتے ہیں، بیگز پر گُچی وغیرہ کے لوگو ہوتے ہیں۔ اسی طرح آئی فون کی کاپی، رولیکس گھڑی کی کاپی، اور اسپورٹس میں ایڈیڈاس وغیرہ کے لوگو بھی استعمال ہوتے ہیں۔ حالانکہ اکثر لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل نہیں ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ چیز بہت عام ہے اور فینز کے لیے اس طرح کی کاپیاں بنائی جاتی ہیں۔
اگر میں خود لوگوں کو نہ کہوں کہ میرے پاس برانڈڈ کاپی موجود ہے، بلکہ جب کوئی گاہک خود سوٹ بنواتے وقت اپنی مرضی سے کہے کہ اس پر ہونڈا یا کاواساکی یا فیراری وغیرہ کا لوگو لگا دیں، تو کیا میں لگا سکتا ہوں؟ کیونکہ وہ فین اس طرح کا سوٹ چاہتا ہے۔
براہ کرم اس مسئلے پر رہنمائی فرما دیں۔ اگر اس میں کوئی گنجائش ہو تو وہ بھی بتا دیں کیونکہ اس سے بچنا بہت مشکل ہے اور تقریباً ہر پروڈکٹ میں یہ مسئلہ آتا ہے۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ کسی معروف کمپنی(brand) کا لوگو (logo) لگا کر اشیاء بناکر بیچنا فی نفسہ (بذات خود) جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کا دھوکہ اور جھوٹ نہ ہو، نیز اس سے ملکی جائز قانون کی خلاف ورزی بھی لازم نہ آتی ہو۔
اگر پہلی شرط نہ پائی جائے تو ایسا معاملہ درست نہیں، اور دوسری شرط نہ پائی جانے کی صورت خرید و فروخت کا معاملہ تو درست ہوگا، لیکن ایک جائز ملکی قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں کسی خاص کسٹمر کے استعمال کے لیے جیکٹس، گلوز، موٹر بائیک سوٹس وغیرہ بناتے وقت کسٹمر کے کہنے پر کسی مشہور برانڈ کا لوگو لگا کر دینے میں چونکہ دھوکہ دہی کا پہلو نہیں پایا جاتا، اس لیے ان اشیاء پر کسی مشہور برانڈ کا لوگو لگا کر دینا فی نفسہ (بذات خود) درست ہے، لیکن چونکہ اس سے ملکی جائز قانون کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، اس لیے ملکی جائز قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔ اس صورت میں کوشش کرنی چاہیے کہ لوگو برانڈڈ کمپنی کے لوگو سے تھوڑا سا مختلف کر لیا جائے، تاکہ ملکی جائز قانون کی خلاف ورزی بھی لازم نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذي: (598/3، ط: مطبعة مصطفی البابي الحلبي)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟» ، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس» ، ثم قال: «من غش فليس منا» وفي الباب عن ابن عمر، وأبي الحمراء، وابن عباس، وبريدة، وأبي بردة بن نيار، وحذيفة بن اليمان: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام.
عون المعبود: (231/9، ط: دار الکتب العلمیة)
والحديث دليل على تحريم الغش وهو مجمع عليه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (38/6، ط: دار الکتاب الاسلامي)
وضابط الغش المحرم أن يشتمل المبيع على وصف نقص لو علم به المشتري امتنع عن شرائه فكل ما كان كذلك يكون غشا وكل ما لا يكون كذلك لا يكون غشا محرما.
بدائع الصنائع: (100/7، ط: دار الکتب العلمیة)
ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی