resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والد کا جائیداد کی غیر منصفانہ تقسیم پر نظرِ ثانی کرنا

(39915-No)

سوال: والد حیات ہیں ان کی اولاد تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں، والد قیمتی جائیداد کے مالک تھے، اب چونکہ وہ بہت ضعیف العمر اور بیمار بھی ہیں، تین بیٹوں نے اپنی بہنوں سے چھپا کر خفیہ طور پر والد سے تمام جائیداد آپس میں نام کروا کر دستاویزات بھی بنوا لی ہیں اور بہنوں کو کچھ نہیں ملا، جبکہ دو بہنیں اپنے بچوں کے ساتھ کرائے کے گھر میں تنگدستی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور بھائی اس پراپرٹی سے لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ وصول کرتے ہیں اور خوشحال ہیں۔
ان بہنوں کے بھائیوں اور والد کے متعلق شرعی صورت حال کیا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیم کرنا ہبہ (Gift) کہلاتا ہے اور شریعت نے ہبہ میں بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان برابری کرنے کی تعلیم دی ہے، بلا وجہ کسی کو کم دینے یا محروم کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر والد نے بلا وجہ اپنی جائیداد بیٹوں کو دے کر بیٹیوں کو محروم کیا ہو تو والد کی یہ تقسیم غیر منصفانہ کہلائے گی اور والد صاحب گناہ گار ہوں گے۔
والد صاحب چونکہ ابھی حیات ہیں، اور بیٹیاں محتاج بھی ہیں، لہذا والد صاحب کو چاہیے کہ اپنی اس غیر منصفانہ تقسیم پر نظر ثانی کریں اور اپنے آپ کو اس غیر منصفانہ تقسیم کے گناہ سے بچانے کے لیے اپنی جائیداد میں سے بیٹیوں کو بھی دے کر راضی کرلیں، تاکہ آخرت میں پریشانی نہ ہو۔

نیز واضح رہے کہ والد نے بیٹوں کو جن چیزوں کا مالکانہ تصرف اور قبضہ کے ساتھ مالک بنادیا ہو تو بیٹے ان چیزوں کے مالک بن گئے ہیں، اب ان چیزوں میں والد اور بیٹیوں کا کوئی حق و حصہ نہیں ہے، البتہ بیٹوں کو چاہیے کہ والد کو اس گناہ سے بچانے کے لیے بہنوں کو بھی اس میں سے دے کر راضی کرلیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (كتاب الوقف، 444/4، ط: دار الفکر)
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف : وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".


الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (5/ 696، ط: دارالفکر)
"ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster