سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے کہ دو افراد نے ایک ہی شخص کو علیحدہ علیحدہ معاملے کے تحت مضارب بنایا یعنی دو علیحدہ علیحدہ رب المال ہیں، جنہوں نے اپنی اپنی علیحدہ علیحدہ مضاربت کے لیے ایک ہی شخص کو مضارب بنا دیا ہے، اب مضارب مضاربت کر رہا اور مضاربت مطلقہ ہے۔ مضاربت میں بعض دفعہ وہ ایک رب المال کا مال دوسرے رب المال کے مال سے خریدتا ہے اور بعض دفعہ بیچتا ہے تو کیا اس عمل کی شرعاً اجازت ہوگی یا نہیں؟ کیا اس میں ایک ہی شخص کے بایع و مشتری بننے والی خرابی لازم تو نہیں آئے گی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں دو افراد کا ایک ہی شخص کو علیحدہ علیحدہ معاملے کے تحت مضارب بنانا شرعاً درست ہے، البتہ مضارب کا ایک ربّ المال کا مال دوسرے رب المال کے مال سے خریدنا اور بیچنا شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ صورت میں ایک شخص ایک ہی وقت میں بائع (فروخت کرنے والا) اور مشتری (خریدار) بن رہا ہے، یعنی اس صورت میں مضارب کی دو حیثیتیں وجود میں آتی ہیں، ایک حیثیت اس لحاظ سے کہ مضارب ایک رب المال کی طرف سے بائع ہے جبکہ دوسری حیثیت یہ ہے کہ اسی سودے میں دوسرے کی طرف سے مشتری بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
درر الحکام شرح مجلة الاحکام: (225/3، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)
ویشمل ایضا ان یکون الطرف شخصا واحدا وان یکون الطرف الآخر ازید من ذلك
رد المحتار: (518/5، ط: سعید)
"الوكيل بالبيع لا يملك شراءه لنفسه؛ لأن الواحد لا يكون مشتريا وبائعا."
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی