resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سی اے فرم (CA FIRM) میں آرٹیکل شپ کرتے وقت سودی بینک کا بیرونی آڈٹ کرنا اور ٹیکس فائل ریٹرن کرتے وقت رد وبدل کرنا

(39919-No)

سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! آپ سے دو سوالات پر فتویٰ درکار تھا۔
1) میں ایک CA firm میں آرٹیکلز کررہا ہوں اور CA کے لیے 3.5 سال کسی فرم میں لگانا ضروری ہے تو کیا ہم کسی بینک کا آڈٹ کر سکتے ہیں کیونکہ اگر ان کے ریکارڈ میں کوئی غلطی ہوئی تو ہمیں ٹھیک کرانی ہوگی؟
2) جب ہم کسی کی ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں تو ہمارے سینئر آخر میں کہتے کہ رد و بدل کر دو تاکہ ظالمانہ ٹیکس کم ہو، ہم انکار کریں گے تو وہ ہمیں نکال دیں گے تو کیا ہمارا وہاں یہ کام کرنا ٹھیک یا چھوڑ دینا چاہیے؟

جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں سی اے فرم (CA FIRM) کی طرف سے آرٹیکل شپ (Article Ship) کرتے وقت کسی سودی بینک کے بیرونی آڈٹ (External Audit) کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ بیرونی آڈٹ کی صورت میں اصل ملازمت آڈٹ فرم میں ہے، نہ کہ سودی بینک میں، نیز فرم کی طرف سے بیرونی آڈٹ کا براہ راست تعلّق سودی معاملے کی جانچ پڑتال اور اس پر گواہ بننے سے نہیں ہے، بلکہ ماضی میں کیے جانے والے معاملات کی جانچ پڑتال سے ہے، سودی معاملے کو انجام دینے میں بیرونی آڈٹ کرنے والے کا کوئی کردار نہیں، لہذا فرم کی طرف سے بیرونی آڈٹ کو براہ راست سودی معاملات کے تعاون کرنے میں داخل نہیں کیا جاسکتا، تاہم بیرونی آڈٹ بھی چونکہ سودی حساب کتاب میں معاونت کا ایک طرح سے سبب بن رہا ہے، (اگرچہ سبب بعید ہے) اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے، اور کسی اسلامی بینک میں یا کسی دوسرے ایسے مالیاتی ادارے میں اپنے آرٹیکل شپ کو مکمل کیا جائے جو شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہو ۔
2) واضح رہے کہ اگرحکومت کے جائز اخراجات بغیر ٹیکس کے پورے نہ ہورہے ہوں تو عوام پر ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اتنا ٹیکس عائد کیا جائے، جو عوام کی استطاعت کے مطابق ہو، بقدر ضرورت ہو، ٹیکس وصولی کا طریقہ کار مناسب ہو اور ٹیکس کی رقوم کو ملک و ملّت کی حقیقی ضرورتوں میں خرچ کیا جائے۔ ایسی صورت میں عوام کے ذمّہ ٹیکس دینا ضروری ہے، اور ٹیکس چوری کرنا یا غلط بیانی کرکے چھپانا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر ٹیکس ظالمانہ ہو، (یعنی جس میں اوپر ذکر کردہ شرائط نہ پائی جائیں) تو اولاً تو حکومت کے ساتھ بات چیت کرکے اس کو ختم کروایا جائے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو جھوٹ بولے یا لکھے بغیر توریہ (یعنی اس طرح سے بات کہنا یا لکھنا کہ مخاطب کچھ اور سمجھے اور بولنے والا کچھ اور مراد لے) کرکے اس سے بچنا ممکن ہو تو اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کوئی خلافِ شرع کام مثلاً: رشوت کا لین دین وغیرہ نہ کیا جائے۔
(ماخذ: تبویب الفتاوی جامعہ دار العلوم کراچی، بتصرف: 90/1457)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

القرآن الکریم: (المائدۃ، الآیۃ: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلٰی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔۔۔۔الخ

تکملة فتح الملهم: (کتاب المساقاۃ، باب لعن آکل الربا ومؤکله، 619/1، ط: اشرفیۃ)
ومن ھنا ظہر أن التوظف في البنوك الربویة لایجوز، فإن کان عمل الموظف في البنة ما یعین علی الربا، کالکتابة، أو الحساب، فذلك حرام لوجہین: الأول: إعانة علی المعصیة، والثاني: أخذ الأجرۃ من المال الحرام۔

الدر المختار مع رد المحتار: (336/2، ط: دار الفکر)
وقال أبو جعفر البلخي ما يضربه السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينا واجبا وحقا مستحقا كالخراج، وقال مشايخنا وكل ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا حتى أجرة الحراسين لحفظ الطريق واللصوص ونصب الدروب وأبواب السكك وهذا يعرف ولا يعرف خوف الفتنة ثم قال: فعلى هذا ما يؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض ونحوه من مصالح العامة دين واجب لا يجوز الامتناع عنه، وليس بظلم ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به وكف اللسان عن السلطان وسعاته فيه لا للتشهير حتى لا يتجاسروا في الزيادة على القدر المستحق اه.
قلت: وينبغي تقييد ذلك بما إذا لم يوجد في بيت المال ما يكفي لذلك لما سيأتي في الجهاد من أنه يكره الجعل إن وجد فيء.

الهندية: (339/5، ط: دار الفکر)
رجل قال لآخر كم أكلت من تمري؟ فقال خمسة، وهو قد أكل العشرة لا يكون كاذبا، وكذا لو قال بكم اشتريت هذا الثوب؟ فقال بخمسة، وهو قد اشترى بعشرة لا يكون كاذبا، كذا في الخلاصة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment