عنوان: کیا عورت بھی نبی اور رسول ہوسکتی ہے؟ نیز حضرت مریم علیہا السلام کی نبوت اور آپ کے والدین کا ناموں کا تذکرہ (104066-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا حضرت مریم علیہا السلام انبیاء میں سے تھیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ وہ کس نبی کی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان اور نسب کیا تھا؟

جواب: تفسیر ابن کثیر میں مذکور ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا نام "عمران بن ہاشم" اور آپ کی والدہ کا نام "حنة بنت قاقوذ" تھا، دونوں کا شمار بنی اسرائیل کے نیک وپارسا لوگوں میں ہوتا تھا اور حافظ ابنِ عساکر رحمہ اللّٰہ کے قول کے مطابق "عمران" کا نسب حضرت سلیمان علیہ السلام اور "بی بی حنة" کا نسب حضرت داؤد علیہ السلام سے جاکر ملتا ہے۔
(مأخذہ: قصص القرآن جلد ٤/ ٣٠٢، مؤلفہ: حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمہ اللّٰہ)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ نے جمہور علماء کا قول نقل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کو نبی یا رسول نہیں بنایا۔ بعض لوگوں نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں نبی ہونے کا قول نقل کیاہے، مگر جمہور علماء کے نزدیک ان کی بزرگی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ نبی یا رسول ہونا ثابت نہیں۔
(مأخذہ تفسیر معارف القرآن: ۵/ ۱۵۹)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالی:
"وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ".
[سورۃ یوسف، آیت: ۱۰۹]

"وأجمعوا علی عدمہا لہا".
(حاشیۃ علی الترمذي مع العرف الشذي: ۲/ ۵)

وفی مختصر تفسیر ابن کثیر:
"یخبر تعالیٰ أنہ إنما أرسل رسلہ من الرجال لا من النساء، وہذا قول جمہور العلماء -إلی- ویبقی الکلام في أن ہذا ہل یکفي في الإنتظام في سلک النبوۃ بمجردہ أم لا؟ الذی علیہ أہل السنۃ والجماعۃ وہو الذي نقلہ الشیخ أبو الحسن الأشعري عنہم: أنہ لیس في النساء نبیۃ.. الخ". (مختصر تفسیر ابن کثیر، ط: دارالقرآن الکریم، بیروت: ۲/ ۲۶۵)

وفی التفسیر المظہری:
"قال الحسن نظرا إلی ہذہ الآیۃ لم یبعث اللہ نبیا من بدو ولا من الجن ولا من النساء".
(تفسیر مظہري، سورۃ یوسف: ۱۰۹)
وفی تفسیر بیان القرآن:
قال العبد الضعیف: "استدل الجمہور بہ علی تخصیص الرسالۃ بالرجال".
(مسائل السلوک علی بیان القرآن تاج پبلشرز دہلی: ۲/ ۴۰)

وفی التفسیر الکبیر للامام الرازی:
"فقد اتفق الأکثرون علی أن أم موسیٰ علیہ السلام ما کانت من الأنبیاء والرسل -إلی- فکیف تصلح للنبوۃ، ویدل علیہ قولہ تعالی: ’’وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلکَ اِلاَّ رِجَالًا نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ‘‘ [الأنبیاء: ۷] وہذا صریح في الباب".
(التفسیر الکبیر للإمام الرازي، ط: بیروت: ۲۲/ ۵۱)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 389
kia aurat / ourat / lady bhi nabi or rasool / rasol ho sakti he / hey / hay? neiz / neez maryam allaiha / alaiha / aliha salam ki nabowwat / nbowat / nabovvat or aap key / kay waldein key / kay namo / namoun ka tazkira / tazkiraa

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.