عنوان: منافقین کے ایک مغالطے کی اصلاح(104097-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! سورہ بقرہ کی آیت نمبر گیارہ میں ارشاد باری تعالی ہے: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاو، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ اس کی وضاحت فرما دیں۔

جواب: ارشاد باری تعالٰی ہے:
"وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ" ﴿سورۃ البقرۃ: ۱۱﴾

ترجمہ:
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ مچاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
(آسان ترجمہ قرآن)

آسان تفسیر:
عقیدہ وعمل کے تمام بگاڑ کی جڑ کفر و شرک ہے اور یہ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے اور اسلام ، پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کے تئیں نت نئی سازشیں مرتب کرتے رہتے تھے ، اسی کو زمین میں فساد و بگاڑ پیدا کرنا فرمایا گیا ہے ، ہر زمانہ میں مفسدین کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ فساد پیدا کرتے ہیں اور اس کو نام اصلاح کا دیتے ہیں ، مسلمانوں کی تاریخ میں بھی عقیدہ و عمل کے بگاڑ کی جتنی تحریکیں اٹھیں ، انھوں نے یہی طریقہ اختیار کیا ، منافقین کے اس تذکرہ میں تنبیہ ہے کہ ہر شخص جو اصلاح کا دعوی کرے ، اس کی بات کو پَرکھے اورکَسے بغیر قبول نہ کرلینا چاہئے ، کہ ہر چمکنے والی چیز ہیرا نہیں ہوتی ۔
(آسان تفسیر از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب زید مجدھم)

معارف ومسائل:
اس آیت میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے وہ اپنی دو رخی روش کو بجائے فساد کے اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے، چنانچہ قرآن کریم نے واضح کیا کہ اصلاح صرف زبانی دعووں پر دائر نہیں ہوتی، ورنہ کوئی چور ڈاکو بھی اپنے آپ کو فساد پھیلانے والا کہنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ دیکھنا یہ ہوگا کہ جو کام کیا جا رہا ہے، اس کام کا کیا انجام ہے؟ اگر معاشرے میں فساد برپا ہوتا ہے، تو اس کام کرنے والے کو مفسد کہا جائے گا، خواہ اس کی نیت فساد کی نہ بھی ہو۔

نیز اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ منافقین کی حرکات حقیقتا زمین میں فتنہ وفساد پھیلانے کی تھیں۔
دوسری یہ کہ منافقین فتنہ وفساد پھیلانے کی نیت سے یہ کام نہ کرتے تھے، بلکہ ان کو معلوم بھی نہ تھا کہ اس کا نتیجہ فتنہ و فساد ہے، جیسا کہ قرآن کریم کی صراحت ہے کہ "ولکن لایشعرون" کہ یہ لوگ اپنی ان حرکات کو فساد نہیں سمجھتے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ زمین میں فتنہ وفساد جن چیزوں سے پھیلتا ہے، ان میں کچھ تو ایسی ہیں جن کو ہر شخص فساد سمجھتا ہی ہے، جیسے: قتل، چوری، دھوکا، فریب، اغواء کاری وغیرہ، ہر سمجھدار آدمی ان کو فساد سمجھتا ہے۔

جبکہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو اپنی ظاہری شکل میں کوئی فتنہ و فساد نہیں ہوتیں، مگر ان کی وجہ سے انسانوں کے اخلاق برباد ہوتے ہیں اور انسانوں کی اخلاقی گراوٹ سارے فتنہ اور فساد کے دروازے کھول دیتی ہے، ان منافقین کا بھی یہی حال تھا کہ چوری ڈاکہ بدکاری وغیرہ سے بچتے تھے اسی لیے بڑے زور سے اپنے مفسد ہونے کا انکار کیا اور اپنے مصلح ہونے کو جتلایا، مگر نفاق، کینہ و حسد اور دو رخی اور دشمنوں سے سازشیں کرنا، یہ چیزیں ان میں پائی جاتی تھیں،
جبکہ یہ چیزیں انسان کے اخلاق کو ایسا تباہ کر دیتی ہیں، کہ انسان بہت سے حیوانوں کی سطح سے بھی نیچے آ جاتا ہے اور ایسے ایسے کام کرنے پر اتر آتا ہے، جو کبھی کسی بھلے مانس انسان سے متصور نہیں ہوتے۔ لہذا جب انسان، اپنے انسانی اخلاق کو بھلا بیٹھے، تو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں فساد ہی فساد آجاتا ہے، پھر اس فساد کو قانونی حکومت کی طاقت سے روکا جاسکتا ہے، مگر قانون کو انسان ہی جاری کرتے ہیں، جب انسان انسان نہ رہا، تو قانون کی جو گت بنے گی اس کا تماشہ آج کھلی آنکھوں ہر شخص ہر لمحہ اور ہر ادارے میں دیکھتا ہے، آج دنیا کا ہر انسان ترقی پذیر ہے، تعلیم اور قانونی اداروں کا جال پھیلا ہوا ہے، تہذیب تہذیب کے الفاظ ہر شخص کی زبان پر ہیں، قانون سازی کی مجلسوں کا بازار گرم ہے، قانون کے بے شمار ادارے اربوں روپے سے قائم ہیں، مگر فتنہ وفساد روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے، وجہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ کوئی قانون خود کار مشین نہیں ہوتا، بلکہ اس کو انسان چلاتے ہیں، جب انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے، تو اس فساد کی اصلاح قانونی ادارے اور حکومتیں نہیں کر سکتیں، یہی وجہ ہے کہ انسانیت کے عظیم محسن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام تر توجہ اس نکتے پر مرکوز فرمائی کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنایا، تو سب فساد اور جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے، چنانچہ جب انسان کی تربیت ہوئی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ لوگوں نے آپ کی تعلیمات پر عمل کیا، تو پھر دنیا نے وہ امن وامان دیکھا جس کی نظیر نہ پہلے دیکھی گئی اور نہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو چھوڑنے کے بعد اس کی توقع ہے۔
اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روح اللّٰہ تعالٰی کا خوف اور آخرت میں حساب وکتاب کی فکر، ان دو چیزوں کے بغیر کوئی قانون ومحکمہ اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود معاشرے سے فتنہ و فساد ختم نہیں کر سکتا۔
(ماخذہ بتصرف یسیر از تفسیر معارف القرآن: ١/ ١٢٢، ١٣١)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 352
munafiqeen / monafqeen / munafiqein ke / key / kay aik / aek / one / 1 mughalte / moghalte / mughaalte / moghaaltey ki islaah / islah / eslaah / eslah

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com