سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک مسئلہ پڑھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو میسج کرے کہ میں نے تم سے نکاح کیا، اور وہ دو گواہوں کی موجودگی میں قبول کرے تو نکاح منعقد ہو جائے گا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میسج سینڈ کرتے وقت مرد کے لیے بھی ضروری ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں میسج سینڈ کرے یا نہیں؟
نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ شبیر احمد عثمانی صاحب کی کتاب موبائل فون کے ذریعہ نکاح و طلاق کا مطالعہ کرنا کیسا ہے؟
جواب: بھیجی گئی تحریر میں مذکور مسئلہ درست ہے اور اس کتاب کو پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔
نیز واضح رہے کہ اگر نکاح کا ایجاب وقبول خط کے ذریعے یا text message کے ذریعے ہو، تو اس شرط کے ساتھ یہ ایجاب وقبول شرعا درست ہوگا، جبکہ قبول کرنے والا مرد یا عورت دو گواہوں کے سامنے خط کے الفاظ ایجاب پڑھ کر سنائے اور پھر ان سے کہے کہ تم گواہ رہو میں نے یہ ایجاب قبول کرلیا ہے، تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔
نیز خط بھیجنے والا بھی اگر دو گواہوں کے سامنے خط کے الفاظ پڑھ کر بھیجے تو یہ طریقہ زیادہ اطمینان بخش ہے۔
اگرچہ مذکورہ بالا صورت میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے، لیکن یہ طریقہ نکاح کے معروف طریقے کے خلاف ہے، جبکہ معروف طریقہ یہ ہے کہ نکاح کے وقت فریقین عقد نکاح کے وقت خود موجود ہوں، یا ان کے وکیل موجود ہوں، خطبہ مسنونہ پڑھا جائے، نکاح مسجد میں کیا جائے، تاکہ اس کی تشہیر اعلان ہو جائے وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (کتاب النکاح، مطلب التزوج بارسال کتاب)
"قال ینعقد النکاح بالکتاب کما ینعقد بالخطاب وصورتہ ان یکتب الیہا یخطبہا فاذا بلغہا الکتاب أحضرت الشہود و قرأتہ علیہم وقالت زوجت نفسی منہ او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشہد واانی زوجت نفسی منہ اما لو لم تقل بحضر تہم سوی زوجت نفسی من فلان لا ینعقد لان سماع الشطرین شرط صحۃ النکاح و باسماعہم الکتاب اوالتعبیر عنہ منہا قد سمعوا الشطرین".
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی