resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مالِ تجارت کی زکوٰۃ دینے میں کس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟

(41942-No)

سوال: السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاته! حضراتِ مفتیانِ کرام! ایک اہم مسئلہ دریافت کرنا ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
میں نے اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے عربی مہینے کے اعتبار سے ہر سال ایک تاریخ مقرر کی ہوئی ہے، اس مقررہ تاریخ پر میں اپنے مالِ تجارت (نمک) کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں۔
ہم نے فقہ کی کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں قیمت لگاتے وقت “مارکیٹ ویلیو” اور “قیمتِ فروخت” کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ جب زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ آتی ہے تو اس دن میرے پاس جو مال موجود ہوتا ہے، اس کی قیمت لگانے میں کون سا طریقہ درست ہوگا؟
کیا ان لوگوں کی قیمت (ریٹ) کا اعتبار کیا جائے گا جن سے ہم یہ مال خریدتے ہیں، یعنی آج کے دن اگر ہم یہی مال خریدیں تو ہمیں جس ریٹ پر ملے گا اسی کے مطابق حساب لگایا جائے؟ یا اس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس پر ہم آج کے دن اپنے اس مال کو مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں؟
براہِ کرم اس اشکال کی وضاحت فرما دیں کہ “مارکیٹ ویلیو” سے مراد خریداری ریٹ ہے یا فروخت کا ریٹ؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں نہ قیمتِ خرید (Cost Price) کا اعتبار ہے اور نہ ہی کاروبارختم کرنے کے بعد مجبوری میں سستا بیچنے والی قیمت (Distress Value) کا اعتبار ہے، بلکہ زکوٰۃ والے دن عام مارکیٹ میں جس قیمت پر آپ عموماً اپنے مال کو بیچتے ہیں، وہی معتبر ہوتی ہے، جسے (Current Market Value / Selling Price) کہا جاتا ہے۔ پھر اگر آپ تھوک میں بیچتے ہیں تو تھوک ریٹ (Wholesale Price) کے مطابق اور اگر پرچون میں بیچتے ہیں تو پرچون ریٹ (Retail Price) کے مطابق اپنے سارے مال کی موجودہ قیمت لگائیں، پھر اس کی ڈھائی فیصد (%2.5) زکوٰۃ ادا کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني:( 61/2، ط:دار الكتب العلمية)
"لأن الواجب الأصلى عندهما هو ربع عشر العين ،وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء، فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."

الدر المختار للحصفكي وحاشیة ابن عابدین: (310/2، ط:دار الفكر-بيروت)
"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غين الاعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء. وفي السوائم يوم الاداء إجماعا، وهو الاصح."
" ( قوله وهو الأصح ) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب ، وقيل يوم الأداء . ا ه .
وفي المحيط : يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح ا ه فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما ،
وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها."

درر الحكام شرح غرر الأحكام : (355/2، ط: دار إحياء الكتب العربية)
والخلاف في زكاة المال ،فتعتبر القيمة وقت الأداء في زكاة المال على قولهما، وهو الأظهر. وقال أبو حنيفة: يوم الوجوب كما في البرهان .وقال الكمال: والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين، وله ولاية منعها إلى القيمة ،فيعتبر يوم المنع كما في منع رد الوديعة ،وعنده الواجب أحدهما ابتداء ،ولذا يجبر المصدق على قبولها.

کتاب النوازل: (557/6، ط: المرکز العلمی للنشر والتحقیق، لال باغ مراد آباد)
اگر کوئی سنار اور سونے کی تجارت کرنے والا صراف اپنی دکان میں موجود برائے فروخت زیورات کی زکوٰۃ کا قیمت سے حساب لگانا چاہے، تو اس میں وہ جس قیمت پر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اسی مقدار پر زکوٰۃ فرض ہوگی.... درج بالا تفصیل سے سونے کے علاوہ دیگر اشیاء کا حکم بھی معلوم ہوگیا کہ تاجر اپنی دکان میں جو چیز جتنی قیمت میں فروخت کرتا ہے وہ سب زکوٰۃ میں لگائے گا۔

فتاوی جامعة الرشید علی الشبکة: (63122/57)
سامان تجارت کی زکوٰۃ نکالتے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔پھر اگر کام تھوک کا ہو تو تھوک کی قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔اگر پرچون کا کام ہو یا دونوں طرح کا ہو تو پرچون کی قیمت فروخت لگائی جائے گی۔

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat