resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حروفِ مقطّعات کے معانی اور مراد

(41949-No)

سوال: مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں کہ قرآن کریم کی سورۃ ص ہے ، حروف "ص" کا کیا مطلب ہے؟

جواب: واضح رہے کہ قرآنِ کریم اپنی بلاغت، اعجاز اور حکمت کے اعتبار سے بے مثال کتاب ہے، جس کے ہر لفظ اور ہر اسلوب میں گہرے معانی اور اسرار پوشیدہ ہیں۔ انہی اسرار میں سے ایک اہم پہلو حروفِ مقطّعات ہیں، جو قرآنِ مجید کی انتیس (29) سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں، جیسے: الم، طٰہٰ، یٰس، ص، ق، کھیعص وغیرہ۔
ان حروف کے بارے میں جمہور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین رحمہم اللہ اور اکابر علماءِ امّت کا راجح مؤقّف یہی ہے کہ یہ حروف دراصل اللہ تعالیٰ کے خاص اسرار اور رموز میں سے ہیں، ان کا حقیقی اور قطعی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، انسانی عقل ان کی حقیقت تک مکمل طور پر رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔
بعض علماء نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ان حروف کا علم خاص راز کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا ہو، لیکن امّت کو اس کی تشریح و توضیح بیان کرنے کا حکم نہ دیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حروف کی کوئی واضح تفسیر یا تشریح منقول نہیں ملتی، حالانکہ آپ ﷺ نے قرآن کے دیگر بہت سے مقامات کی وضاحت فرمائی ہے۔
ایک مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ان حروف کو اللہ تعالیٰ کے کلام کا حصہ مانتے ہوئے ان پر ایمان رکھے، اور یہ یقین رکھے کہ ان میں یقیناً کوئی عظیم حکمت اور مصلحت پوشیدہ ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
لہٰذا ان حروفِ مقطّعات کے معانی متعین کرنے یا ان کے پیچھے غیر یقینی قیاسات کرنے کے بجائے ایک مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان کو اللہ کے سپرد کر دے اور اپنی توجّہ قرآن کے ان واضح احکام اور ہدایات پر مرکوز رکھے جو اس کی عملی زندگی کی اصلاح اور فلاح کے لیے نازل کیے گئے ہیں۔
بالآخر حروفِ مقطّعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علم کا ایک دائرہ ایسا بھی ہے جہاں انسانی عقل اور علمی جستجو کو روک کر بندہ اپنے رب کی حکمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، یہی عاجزی اور تسلیم و رضا دراصل ایمان کی خوبصورتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن: (البقرۃ : ۱ ۔ ۲ بیان الاقوال الواردۃ فی الحروف المقطعة اللتی فی اوائل السور، 154/1، ط : دارالکتب المصریة ۔ القاهرۃ)
"اختلف أهل التأويل في الحروف التي في أوائل السور، فقال عامر الشعبي وسفيان الثوري وجماعة من المحدثين: هي سر الله في القرآن، ولله في كل كتاب من كتبه سر. فهي من المتشابه الذي انفرد الله تعالى بعلمه، ولا يجب أن يتكلم فيها، ولكن نؤمن بها ونقرأ كما جاءت. وروي هذا القول عن أبي بكر الصديق وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنهما. وذكر أبو الليث السمرقندي عن عمر وعثمان وابن مسعود أنهم قالوا: الحروف المقطعة من المكتوم الذي لا يفسر. وقال أبو حاتم: لم نجد الحروف المقطعة في القرآن إلا في أوائل السور، ولا ندري ما أراد الله عز وجل بها. قلت: ومن هذا المعنى ما ذكره أبو بكر الأنباري: حدثنا الحسن بن الحباب حدثنا أبو بكر بن أبي طالب حدثنا أبو المنذر الواسطي عن مالك بن مغول عن سعيد بن مسروق عن الربيع بن خثيم قال: إن الله تعالى أنزل هذا القرآن فاستأثر منه بعلم ما شاء، وأطلعكم على ما شاء، فأما ما استأثر به لنفسه فلستم بنائليه فلا تسألوا عنه، وأما الذي أطلعكم عليه فهو الذي تسألون عنه وتخبرون به، وما بكل القرآن تعلمون، ولا بكل ما تعلمون تعملون. قال أبو بكر: فهذا يوضح أن حروفا من القرآن سترت معانيها عن جميع العالم، اختبارا من الله عز وجل وامتحانا، فمن آمن بها أثيب وسعد، ومن كفر وشك أثم وبعد....الخ"

التفسير المنير - الزحيلي: (سورة البقرة، الایة:1، 1/ 73، ط:دار الفكر (دمشق - سورية)
«وقد استفتح الله هذه السورة بالحروف المقطعة، تنبيها لوصف القرآن وإشارة إلى إعجازه، وتحديا دائما على الإتيان بأقصر سورة من مثله، وإثباتا قاطعا إلى أنه كلام الله الذي لا يضارعه شيء من كلام البشر ، فكأن الله يقول للعرب الذين نزل القرآن بلغتهم: كيف تعجزون عن الإتيان بمثله، مع أنه كلام عربي، مركب من الحروف الهجائية التي ينطق بها كل عربي، ومع ذلك عجزتم عن مجاراته. هذا هو رأي المحققين من العلماء الذين قالوا: إنما ذكرت هذه الحروف في أوائل السور التي ذكرت فيها، بيانا لإعجاز القرآن، وأن الخلق عاجزون عن معارضته بمثله، هذا مع أنه مركب من هذه الحروف المقطعة التي يتخاطبون بها.
قال الزمخشري: ولم ترد كلها مجموعة في أول القرآن، وإنما كررت ليكون» أبلغ في التحدي والتبكيت، كما كررت قصص كثيرة، وكرر التحدي بالصريح في أماكن.

تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل: (1/ 35، ط: دار احیاء التراث العربي)
وقيل: إنه سر استأثر الله بعلمه وقد روي عن الخلفاء الأربعة وغيرهم من الصحابة ما يقرب منه، ولعلهم أرادوا أنها أسرار بين الله تعالى ورسوله ورموز لم يقصد بها ‌إفهام ‌غيره إذ يبعد الخطاب بما لا يفيد.

معارف القرآن: (سورة البقرة، 126/1، ط: ادارة المعارف کراچی)

والله تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat