resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شئیرز پر قبضہ(Final Settlement) مکمل ہونے سے پہلے اسے آگے فروخت کرنے کی صورت میں نفع کا حکم

(41974-No)

سوال: السلام علیکم، میں نے SYS (Systems) کے 10 شیئرز خریدے تھے، مجھے صحیح رقم یاد نہیں، لیکن تقریباً 1500 روپے کے قریب تھی۔
میرا خیال ہے کہ شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک شیئرز مکمل طور پر میری ملکیت میں نہ آ جائیں (PSX کے T+1 سیٹلمنٹ سائیکل کے مکمل ہونے تک)، اس وقت تک انہیں فروخت نہیں کرنا چاہیے، ورنہ یہ حرام ہوگا۔
مجھے ان 10 شیئرز پر 20 روپے ڈیویڈنڈ ملا، جو میرا پہلا ڈیویڈنڈ تھا۔ خوشی میں میں نے یہ شیئرز فروخت کر دیے اور یہ بات بالکل بھول گیا کہ ابھی وہ مکمل طور پر میری ملکیت میں نہیں آئے تھے، اگرچہ ان شیئرز میں مجھے مجموعی طور پر نقصان ہوا، لیکن 20 روپے کا ڈیویڈنڈ ملا ہے۔ میں حرام کمائی نہیں کرنا چاہتا، اب مجھے بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ قبضہ (یعنی فائنل سیٹلمنٹ) سے پہلے شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے قبضہ سے پہلے شیئرز کو آگے فروخت کردیا اور اس کی قیمت حاصل کرلی تو اب اس کے لئے اس کی اصل رقم کو استعمال کرنا درست ہے، البتہ اس سے حاصل ہونے والے نفع کو صدقہ کرنا شرعاً ضروری ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں قبضہ سے پہلے شیئرز کو آگے فروخت کرنے پر حاصل شدہ قیمت میں اصل رقم کو استعمال کرنا درست ہے، البتہ اس سے حاصل ہونے والے نفع کو صدقہ کرنا شرعاً ضروری ہے، تاہم اگر مجموعی طور پر نقصان ہوا ہے (جیسا کہ سوال میں ذکر ہے) تو مجموعی طور پر نقصان سے مراد اگر یہ ہے کہ قبضہ سے پہلے بعض معاملات میں نفع ہوا اور بعض میں نقصان تو یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں ایک ہی معاملے سے متعلق ہیں یا الگ الگ معاملات ہیں۔
اگر ایک ہی معاملے میں نفع کے بجائے نقصان ہوا ہے تو اس صورت میں چونکہ قیمت میں اضافی رقم حاصل نہیں ہوئی، اس لیے جو رقم ملی ہے اس کو صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر الگ الگ سودے ہیں اور کسی سودے میں قبضہ سے پہلے فروخت پر نفع حاصل ہوا ہے جبکہ دوسرے سودے میں نقصان ہوا تو اس صورت میں اس ناجائز نفع کو دوسرے سودے کے نقصان کے ساتھ برابر سرابر (settlement) کرکے اپنے لیے رکھنا درست نہیں ہوگا، بلکہ ناجائز طریقے سے حاصل ہونے والی اضافی رقم کو صدقہ کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1525)
"ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: من ابتاع طعاما فلا یبعه حتی یقبضه، قال ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ: وأحسب کل شيء بمنزلة الطعام

فقه البیوع: (1050/2)
القسم الخامس: المال المقبوض ببیع فاسد
والقسم الخامس من المال الخبیث ما قبضه المشتری المتبایعان فی بیع فاسد.....اما عندالحنفیة فهو قسم مستقل لان المشتری فی البیع الفاسد یملك المبیع عندهم بالقبض ملکا خبیثا، وینفذ تصرفاته ویثبت له احکام الملك .......وکذالك البائع یملك الثمن الذی قبضه من المشتری"
"أما البیوع الفاسدة الاخري التی کثرت فی سوق عصرنا مثل بیع المملوك قبل القبض فی اسواق السلع والأسهم .......فان المال الحاصل ب‬هذہ العقود الفاسدة داخل فی القسم الخامس. فإن قبض البائع الثمن فعلیه ردہ الی المشتری فی جمیع الاحوال واسترداد المبیع او مثله او قیمته. ولو تعذر ذالك لغیاب المشتری مثلا وجب علیه التصدق به، ولکن ان شتری بالثمن شیئا ملكه ملکا صحیحا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial