resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بکری دیکھ بھال کے لئے کسی کو دینے کی اجرت دوسری بکری مقرر کرنا، اور حاصل ہونے والے بچے تقسیم کرنا

(41975-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! بکریوں میں شراکت سے متعلق میرے دو سوالات ہیں:
1) ہمارے پاس ایک بکری ہے ہمیں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ بکری مجھے دے دیں جب بچے ہوں گے تو ایک بچہ میرا ایک آپ کا ہوگا، کیا اس طرح جائز ہے؟
2) اگر ہم اس کو دو بکریاں دیں ایک کی ملکیت ہماری ہو اور دوسری ہم اس کو پہلے ہی بطور اجرت دے دیں اور اس کو بتا بھی دیں کہ وہ ہماری ملکیتی بکری کو سنبھالے گا اور رکھے گا اور اس کو دی گئی بطور اجرت بکری سے جو بھی بچے ہوں وہ اس کے ہوں گے اور ہماری بکری کے بچے ہمارے ہوں گے۔ کیا یہ جائز صورت ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی پہلی صورت واضح نہیں ہے کہ اس میں بکری صرف دیکھ بھال کے لئے دی جارہی ہے یا مالک بنا کر دی جارہی ہے، جبکہ دوسری صورت جائز ہے، البتہ اس میں ضروری ہے کہ شروع میں ہی بکری کی دیکھ بھال کی مدّت طے کر لی جائے کہ کتنی مدت تک وہ آپ کی بکری سنبھالے گا، نیز جو بکری بطورِ اجرت دی جارہی ہے، وہ بھی شروع میں ہی متعیّن کردی جائے، اس طرح وہ شخص بطورِ اجرت دی گئی بکری کا مالک ہوجائے گا، اور اس بکری سے حاصل ہونے والے بچے اسی کی ملکیت ہوں گے اور آپ کی ملکیتی بکری کے بچے آپ کے ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (522/1، ط: دار الجیل)

ما صلح في البيع لأن يكون ثمنا يصلح لأن يكون في الإجارة بدلا؛ لأن الأجرة ثمن المنفعة فتعتبر بثمن المبيع (الطوري) ويستعمل الثمن في هذا على معنيين:........الثاني: البدل مطلقا كما هو مذكور في شرح المادة المذكورة: أي كل ما يجعل عوضا للمبيع، فكما يصح أن يكون الثمن في هذا المعنى من النقود والمكيلات والموزونات والعدديات المتقاربة يصح أن يكون من الأعيان التي ليست من المثليات كالحيوانات والثياب....... تلزم الأجرة بالتعجيل يعني لو سلم المستأجر الأجرة نقدا ملكها الآجر وليس للمستأجر استردادها.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial