resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نکاح کے بعد رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں دینا

(41982-No)

سوال: شادی کے بعد ہمارا ازدواجی تعلق (ہمبستری) نہیں ہوا تھا، اور میرے شوہر نے مجھے فون پر ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں۔ ہم نے یہ بات کسی کو بتائے بغیر 8 ماہ تک علیحدگی اختیار کیے رکھی، اب ہم دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم اب بھی نکاح میں ہیں یا اسلامی نقطۂ نظر سے اس کا کیا حل ہے؟
تنقیح:
محترمہ! براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ آپ کی اس بات "ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں" سے کیا مراد ہے؟ کیا شوہر نے ایک ہی جملے میں تین طلاقیں دیں، مثلاً: "تمہیں تین طلاق" کہا، یا الگ الگ جملوں میں طلاق دی، مثلاً: "طلاق، طلاق، طلاق"؟
جواب تنقیح: میرے شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے: "میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دہتا ہوں، تمہین طلاق دیتا ہوں، تمہین طلاق دیتا ہوں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں طلاق اگر خلوتِ صحیحہ (تہنائی کی ایسی ملاقات جس میں اگر میاں، بیوی جماع کرنا چاہیں تو کرسکیں) سے پہلے ہوئی تھی تو اس صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوجائے گا، اور باقی دو طلاقیں لغو شمار ہوں گی، بیوی پر عدّت بھی نہیں ہوگی، اس کے بعد اگر آپ دونوں نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، لیکن اس صورت میں شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
اور اگر میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہوچکی تھی تو آپ دونوں کے درمیان رجوع یا از سرِ نو نکاح کی کوئی گنجائش نہیں رہی، البتہ اس صورت میں اگر آپ دوسرے شخص سے بغیر کسی شرط کے باقاعدہ نکاح کریں اور دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر وہ آپ کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو عدّت پوری کرنے کے بعد آپ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الفتاوی الولوالجية: (23/2)*
اذا طلق امراته ولم یدخل بها فلا عدة علیها، ولا تحل له الا بنکاح جدید لان الملك قد سقط ولو قال لها انت طالق طالق طالق بانت بالاولي لان الاول وقع منجزاً فلا یقع الثانی الا اذا کانت مدخولا بها.

*رد المحتار: (284/3، ط: سعید)*
(قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) يا زانية (ثلاثا) فلا حد ولا لعان لوقوع الثلاث عليها وهي زوجته ثم بانت بعده ... (وقعن) لما تقرر أنه متى ذكر العدد كان الوقوع به ... (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق، قوله (وكذا أنت طالق ثلاثا متفرقات) أو ثنتين مع طلاق إياك (ف) طلقها واحدة وقع (واحدة)
(قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى ... (قوله بانت بالأولى) أي قبل الفراغ من الكلام الثاني عند أبي يوسف ... (قوله ولذا) أي لكونها بانت لا إلى عدة ح (قوله لم تقع الثانية) المراد بها ما بعد الأولى، فيشمل الثالثة

*رد المحتار: (3/ 265و ر: سعید)*
ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا وقعن.

*تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي: (2/ 213، ط: دار الکتاب الاسلامي)*
قال - رحمه الله - (طلق غير الموطوءة ثلاثا وقعن)

*الفتاوى الهندية: (1/ 473، ط: دار الفکر)*
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير.

*فتاوی دار العلوم کراتشی (امداد السائلین): (3/427، ط: ادارة المعارف)*

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce