resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: رشتہ کروانے کا کاروبار کرنا اور مقررہ مدت کے دوران رشتہ نہ ہونےکے باوجود رقم ضبط کرنا

(41999-No)

سوال: کیا رشتے کروانے کا کاروبار اسلامی نقطۂ نظر سے درست ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس میں ایک مخصوص مدت مقرر ہوتی ہے، مثلاً ایک ماہ یا تین ماہ، اور اگر اس مدت کے اندر رشتہ طے نہ ہو تو دی گئی رقم ختم تصور کی جاتی ہے (واپس نہیں کی جاتی)۔

جواب: لڑکے اور لڑکی کے درمیان مناسب رشتہ طے کروانا ایک نیک اور بابرکت عمل ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور نکاح جیسی سنتِ نبوی ﷺ کی تعمیل ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے مبارک کام کو محض پیشہ اور کاروبار بنانے کے بجائے عبادت اور خدمت کے جذبے سے انجام دینا زیادہ مناسب ہے، البتہ اگر رشتہ کروانے میں وقت، محنت یا اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہوں تو اس محنت کے بدلے رشتہ کروانے والے کے لئے مناسب اجرت طے کر کے لینا جائز ہے، لیکن رشتہ نہ ہونے کی صورت میں دی گئی اجرت ضبط کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
واضح رہے کہ رشتہ کروانے والے کی شرعی حیثیت اجیرِ مشترک کی ہے، اور اجیرِ مشترک کے لیے ضروری ہے کہ اس کی اجرت کسی متعین کام کے بدلے مقرّر کی جائے۔
چنانچہ پوچھی گئی صورت میں رشتہ کروانے والے کی اجرت اگر اس طرح طے کی جائے کہ ایک ماہ یا تین ماہ تک رشتے دکھائے جائیں گے، اور اگر اس مدت میں رشتہ طے نہ ہوا تو ادا کی گئی رقم ختم ہوجائے گی تو اس طریقہ میں چونکہ رشتوں کی تعداد معلوم نہیں ہے، لہٰذا یہ طریقہ شرعاً درست نہیں۔
اس کے بجائے مخصوص تعداد، مثلاً: پانچ یا دس رشتوں کے سلسلے میں فریقین کی ملاقات یا باہمی رابطہ کروانے کے بدلہ متعین اجرت طے جاسکتی ہے، اسی طرح رشتہ دکھانے کی اجرت کی بجائے فائنل رشتہ کروانے کی لم سم (Lump sum) اجرت بھی طے کی جاسکتی ہے، نیز باہمی رضامندی سے اجرت کی کوئی اور جائز صورت بھی طے کی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المحيط البرهاني: (644/7، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
وفي «فتاوى الفضلي» : الدلالة ‌في ‌النكاح ‌لا ‌يستوجب ‌الأجر وبه كان يفتي رحمه الله، وغيره من (62آ4) مشايخ زمانه كانوا يفتون بوجوب أجر المثل لهما، لأن معظم الأمر في النكاح يقوم بها، ولها سعي في إصلاح مقدمات النكاح، فيستوجب أجر المثل بمنزلة الدلال في باب البيع، وبه يفتى.

مجمع الضمانات (ص: 54، ط: دار الكتاب الإسلامي)
‌الدلالة ‌في ‌النكاح ‌قيل: ‌لا ‌يجب ‌لها أجر المثل إذ لم يعمل شيئا والزوج إنما ينتفع بالعقد وقيل: يجب وبه يفتى لسعيها في مقدمات النكاح كمبيع ويعتبر العرف في قدره من أحكام الدلال من الفصولين.

بدائع الصنائع: (174/4، ط: دار الكتب العلمية)
والأجير قد يكون خاصا وهو الذي يعمل لواحد وهو المسمى بأجير الواحد، وقد يكون مشتركا وهو الذي يعمل لعامة الناس وهو المسمى بالأجير المشترك..... وجعل المعقود عليه في أحد النوعين المنفعة وفي الآخر العمل

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment