resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی، بیٹی، پوتی اور والدہ میں ساٹھ ہزار (60000) میراث کی تقسیم

(42020-No)

سوال: مفتی صاحب! ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، اور اس نے کل ساٹھ ہزار (60,000) روپے مالِ وراثت چھوڑا ہے۔ مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹی، ایک پوتی اور والدہ موجود ہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ اس صورت میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو کتنی رقم اور کتنا حصہ ملے گا؟

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی کل رقم کو چالیس (40) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو پانچ (5) حصے، بیٹی کو اکیس (21) حصے، پوتی کو سات (7) حصے اور والدہ کو سات (7) حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کے لحاظ سے ساٹھ ہزار (60,000) روپے میں سے بیوہ کو سات ہزار پانچ سو (7,500) روپے، بیٹی کو اکتیس ہزار پانچ سو (31,500) روپے، پوتی کو دس ہزار پانچ سو (10,500) روپے اور والدہ کو سات دس ہزار پانچ سو (10,500) روپے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو %12.5 فیصد حصہ، بیٹی کو %52.5 فیصد حصہ، پوتی کو %17.5 فیصد حصہ اور والدہ کو %17.5 فیصد حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ...الخ

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 12)
فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-.الخ

السراجي في الميراث: (ص: 3، ط: المطبعة العلمية)
تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين.

السراجي: (ص: 20، ط: البشرى)
و بنات الابن كبنات الصلب و لهن أحوال ست........و لهن السدس مع الواحدة الصلبية تكملةً للثلثين.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster