سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، میری ایک ہی بیٹی ہے، میری اہلیہ محترمہ کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، ان کی وفات کے وقت میرے نام کوئی جائیداد نہیں تھی، البتہ ان کی کچھ جائیداد جانشینی سرٹیفیکیٹ کے مطابق میرے نام منتقل ہوگی، اس جائیداد کا زیادہ تر حصہ انہیں ان کے والدین کی طرف سے وراثت میں ملا تھا، تاہم تقریباً 15 تا 20 فیصد جائیداد کی خریداری میں میری تنخواہ کی بچت بھی استعمال ہوئی تھی۔
یہ بھی عرض ہے کہ میرے مرحوم بھائی کی پانچ بیٹیوں کے زیورات میری اہلیہ نے اپنے پیسوں سے بنوا کر دیے تھے اور ان کی شادی کے اخراجات میں بھی کافی مناسب حصہ ڈالا تھا، میرے بھائی کی وفات کو تقریباً 20 سال ہوگئے ہیں اور میں اس کی بیوہ کو گھریلو اخراجات کے لیے پہلے 5، 10، 15 اور 20 ہزار روپے ماہانہ اور اب 25 ہزار روپے ماہانہ دیتا ہوں، اس کے علاوہ بھی کبھی کبھار ان کی مالی مدد کرتا رہتا ہوں۔
میرے بھائی کا ایک بیٹا ہے، جو اپنی بہنوں کے لاڈ پیار کی وجہ سے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکا۔ وہ کام سے جی چراتا ہے اور نافرمان بھی ہے، کئی جگہ ملازمت کی، لیکن دو تین ماہ بعد چھوڑ دیتا ہے اور اپنی والدہ سے پیسے مانگتا رہتا ہے، ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتا ہے، اپنے یاروں اور دوستوں کو کھلاتا ہے اور شیخی بھی بگھارتا ہے۔
میرے بھائی کی بیوہ کے پاس اپنا گھر ہے، جس کا اوپر والا حصہ کرائے پر ہے، جبکہ پانچویں بیٹی اسکول ٹیچر ہے، وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے اور شادی نہیں کرنا چاہتی۔
میں بڑھاپے کی وجہ سے اپنی بیٹی کے پاس بیرونِ ملک رہتا ہوں اور کوئی کام نہیں کرسکتا، میرے بھائی کے خاندان والے بھی ہم سے کبھی مشورہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے حالات سے آگاہ رکھتے ہیں۔ الحمدللہ، میرے بھائی کی چاروں شادی شدہ بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں اور سب صاحبِ اولاد ہیں، اس ضمن میں میرے چند سوالات ہیں:
1) کیا مرحومہ بیوی کی جائیداد جانشینی سرٹیفیکیٹ میں میرے نام منتقل ہونے سے میری ملکیت شمار ہوگی؟
2) کیا جو جائیداد وغیرہ مجھے اپنی مرحومہ بیوی سے ملے گی اور جو میری جائیداد وغیرہ ہے، میں اسے اپنی واحد بیٹی کے نام بطور ہبہ کرسکتا ہوں؟
3) کیا میری وفات کے بعد میرے مرحوم بھائی کے بچے میری چھوڑی ہوئی جائیداد کے حقدار ہوں گے؟ اگر میں اپنی جائیداد اپنی بیٹی کو ہبہ نہ کروں تو کیا میری بیٹی ہی اس کی واحد وارث ہوگی؟
4) میں نے دس لاکھ روپے اپنی بیٹی کے پاس بطورِ امانت رکھوائے ہیں کہ جب میرا بھتیجا سدھر جائے اور اس کی والدہ کہے تو وہ اسے دے دے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟
5) آپ قانونی و شرعی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور انسانی پہلو سے بھی رہنمائی فرما سکتے ہیں، اگر کسی مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں، آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ، دعاؤں کی درخواست ہے۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں مختلف امور کے بارے میں پوچھا گیا ہے، جن کے جواب کی تفصیل درج ذیل ہے:
1) مرحومہ اہلیہ کی جائیداد کا حکم
واضح رہے کہ محض جانشینی سرٹیفیکیٹ کے مطابق جائیداد آپ کے نام منتقل ہوجانے سے شرعاً وہ جائیداد مکمل طور پر آپ کی ملکیت نہیں ہوگی، بلکہ مرحومہ کی وفات کے وقت موجود تمام شرعی ورثاء کا اس میں حصہ ہوگا اور سب شرعی ورثاء کو ان کا حصہ دیا جائے گا، شوہر ہونے کی حیثیت سے جو حصہ آپ کو بطورِ میراث ملے گا، وہ آپ کی اپنی ملکیت ہوگا۔
2) اپنی جائیداد بیٹی کو ہبہ (Gift) کرنا
مرحومہ اہلیہ کی میراث میں سے ملنے والا آپ کا شرعی حصہ اور آپ کے اپنے اموال و جائیداد، بینک بیلنس آپ کی زندگی میں آپ کی ملکیت ہے، آپ اسے اپنی بیٹی کو ہبہ (Gift) کرسکتے ہیں، ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے صرف کاغذی طور پر نام کرنا کافی نہیں، بلکہ شرعی طور پر ہبہ مکمل کرکے بیٹی کو اس کا قبضہ اور اختیار بھی دینا ضروری ہے، ہبہ مکمل ہوجانے کے بعد وہ مال و جائیداد آپ کی وفات کے بعد آپ کے ترکے میں شامل نہیں ہوں گے۔
3) آپ کی وفات کے بعد مرحوم بھائی کے بچوں کا حصہ
اگر آپ کی وفات کے وقت آپ کے ورثاء میں صرف ایک بیٹی اور آپ کے مرحوم بھائی کا ایک بیٹا موجود ہو اور کوئی دوسرا وارث موجود نہ ہو تو آپ کی بیٹی کو نصف (1/2) ترکہ ملے گا اور باقی نصف (1/2) آپ کے مرحوم بھائی کے بیٹے کو بطورِ عصبہ ملے گا، البتہ آپ کے مرحوم بھائی کی بیٹیاں آپ کی وفات کے بعد آپ کی جائیداد میں وارث نہیں ہوں گی۔
نوٹ: یہ بھی یاد رہے کہ ورثاء کا تعین آپ کی وفات کے وقت موجود افراد کے اعتبار سے ہوگا، اس لیے ابھی سے قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کی وفات کے وقت کون کون وارث ہوگا۔
4) دس لاکھ روپے کا حکم
آپ نے جو دس لاکھ روپے اپنی بیٹی کے پاس اس نیت سے رکھوائے ہیں کہ جب آپ کا بھتیجا سدھر جائے اور اس کی والدہ کہے تو اسے دے دیے جائیں تو جب تک آپ نے وہ رقم باقاعدہ طور پر بھتیجے کو ہبہ (Gift) کر کے اس کا قبضہ نہیں دیا، وہ رقم آپ ہی کی ملکیت شمار ہوگی، لہٰذا اگر آپ کی وفات سے پہلے وہ رقم آپ کی ملکیت میں رہی تو وہ آپ کے ترکے میں شامل ہوگی اور شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔ ہاں! اگر آپ اسے اپنی زندگی میں بھتیجے کو دینا چاہتے ہیں تو ہبہ کے شرعی طریقے سے دے سکتے ہیں۔
5) اخلاقی پہلو
آپ اور آپ کی مرحومہ بیوی نے اپنے مرحوم بھائی کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جو طویل عرصے تک مالی مدد کی ہے، یہ قابلِ اجر اور باعثِ ثواب عمل ہے، ان شاء اللہ! آخرت میں اس کا آپ کو بہترین بدلہ ملے گا۔
تاہم پوچھی گئی صورت کے مطابق بھتیجا شرعی طور پر آپ کا وارث بن رہا ہے، محض اس کی سستی، نافرمانی یا خراب عادات کی وجہ سے اس کا شرعی حق ختم نہیں ہوگا، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اپنی زندگی میں جائیداد کے معاملات واضح طور پر طے کرلیں، جو ہبہ کرنا ہو اسے شرعی طریقے سے مکمل کر دیں اور جو مال اپنی ملکیت میں رکھنا ہو، اس کے متعلق کوئی ایسا معاملہ نہ کریں جس سے وفات کے بعد ورثاء میں نزاع پیدا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ... الخ
الدر المختار: (689/5، ط: سعید)
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"۔
شرح المجلۃ: (رقم المادۃ: 837)
تنعقد الہبۃ بالإیجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل؛ لأنہا من التبرعات، والتبرع لا یتم إلا بالقبض".
رد المحتار: (كتاب الوقف، 444/4، ط: سعيد)
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".
مجلة الأحكام العدلية: (230/1)
"كل يتصرف في ملكه كيف ما شاء".
الھندیة: (الباب الثانی فیما یجوز من الھبة و ما لا یجوز، 378/4، ط: رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
تكملة فتح الملهم: (71/5، ط: دار العلوم کراتشی)
"فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اكثر من غيره اتفاقا، او بسبب علمه، او عمله، او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذالك اضرار الاخرين ولا الجور عليهم، كان جائزا علي قول الجمهور،....أما إذا قصد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غير داعية مجوزة لذالك، فانه لا يبيحه احد...
عمدة القاري: (کتاب الھبة، 146/13، ط: دار إحياء التراث العربي)
يجوز التَّفَاضُل إِن كَانَ لَهُ سَبَب، كاحتياح الْوَلَد لزمانته أَو دينه أَو نَحْو ذَلِك. وَقَالَ أَبُو يُوسُف: تجب التَّسْوِيَة إِن قصد بالتفضيل الْإِضْرَار ، وَذهب الْجُمْهُور إِلَى أَن التَّسْوِيَة مُسْتَحبَّة، فَإِن فضل بَعْضًا صَحَّ وَكره، وحملوا الْأَمر على النّدب وَالنَّهْي على التَّنْزِيه.
بدائع الصنائع: (57/7، ط: دار الکتب العلمیة)
لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل
الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الوصایا، 648/6، ط: سعید)
"(هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا۔"
الھندیة: (90/6، ط: دار الفكر)
أما الأول فكقوله: وهبت هذا الشيء لك، أو ملكته لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة
الدر المختار: (774/6، ط: سعید)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.
*و فیه ایضاً: (783/6- 784، ط: سعید)*
"إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب".
المحيط البرهاني: (204/7، ط: دار الكتب العلمية)
لأن قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل.
ألا ترى أنه لو هلك في يد الوكيل كان بمنزلة ما لو هلك في يد الموكل فكأنها كسدت في يد الموكل.
مجلة الأحكام العدلية:(1 / 284)
المادة (1463) المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی