سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عرض یہ کرنی ہے کہ ایک لڑکا اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے اور اس نے طلاق درمیان میں کسی اور کے ذریعے بول دی ہے کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے۔ اس کے بارے میں پتا کرنا ہے کہ کیا یہ طلاق ہو جائے گا؟ مہربانی ہوگی۔ جزاک اللہ
جواب: پوچھی گئی صورت میں "میں نے اسے طلاق دے دی ہے" کے الفاظ سے ایک طلاق واقع ہو چکی ہے، کیونکہ طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کا سامنے ہونا یا اس کا طلاق کے الفاظ سننا کوئی ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (رکن الطلاق، 230/3، ط: سعید)
(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.
المحیط البرھاني: (الفصل السابع في الخصومات، 50/4، ط: دار الكتب العلمية)
ﻷﻥ اﻟﺰﻭﺝ ﻳﻨﻔﺮﺩ ﺑﺈﻳﻘﺎﻉ اﻟﻄﻼﻕ اﻟﺜﻼﺙ، ﻭﻻ ﻳﺘﻮﻗﻒ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﻋﻠﻢ اﻟﻤﺮﺃة.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی