resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نماز میں درود شریف کے بعد ایک سے زائد دعائیں پڑھنا

(42033-No)

سوال: السلام علیکم! والحزن پہ کون سا اعراب صحیح ہے؟ اور کیا یہ دعا (اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن... الخ) حدیث سے ثابت ہے؟
کیا نماز میں یہ دعا دو سے تین دعاؤں کے ساتھ ملا کر درود شریف کے بعد پڑھی جا سکتی ہے، چاہے فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جا رہی ہے ہو یا اکیلے میں پڑھی جا رہی ہو؟
کیا سنت اور نفل نماز میں درود شریف کے بعد پڑھی جا سکتی ہے؟ نماز میں درود شریف کے بعد پڑھے جانے والی دعاؤں کے حوالے سے رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ نماز میں درود شریف کے بعد دعا پڑھنا سنت ہے، اس موقع پر قرآن مجید کی کوئی دعا یا احادیث مبارکہ میں منقول کوئی بھی دعا پڑھی جاسکتی ہے، اسی طرح ایک سے زائد دعائیں پڑھنا بھی جائز ہے، یہ حکم تمام نمازوں کے لیے ہے۔ نفل، سنت، تنہا پڑھیں جانے والی فرض نماز اور امام کی اقتداء میں پڑھی جانے والی نمازوں میں (اگر اضافی دعا پڑھنے کا موقع ملے) اس پر عمل کیا جاسکتا ہے، البتہ امام کو چاہیے کہ وہ کسی ایک منقول دعا پر اکتفاء کرے تاکہ طویل دعاؤں کی وجہ سے مقتدیوں کو مشقّت نہ ہو۔
سوال میں آپ نے جو دعا ذکر کی ہے یہ بخاری شریف میں موجود ہے، لہذا آپ اسے نماز میں پڑھ سکتے ہیں۔
مکمل دعا درست اعراب اور ترجمہ کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.
ترجمہ: اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور کاہلی سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے دباؤ اور لوگوں کے غلبے سے۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر:1555)
نیز "حُزْن" اور "حَزَن" دونوں ہم معنی لفظ ہیں، جس کے معنی "غم" کے آتے ہیں، حدیث کی ایک دوسری کتاب مشکوٰۃ المصابیح میں یہی دعا کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے، وہاں یہ لفظ "حُزْن" (حا کے پیش اور زا کے سکون کے ساتھ) لکھا ہوا ملتا ہے، لہذا دونوں روایات اپنی جگہ درست ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 703، ط: دار الفکر)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ؛ فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ".

سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 1555، ط: دار الرسالة العالمیة)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَامَةَ مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ قَالَ هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي۔

الفتاویٰ الهندية: (76/1، ط: دار الفکر)
"فإذا فرغ من الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم يستغفر لنفسه ولأبويه وللمؤمنين والمؤمنات. كذا في الخلاصة. ويدعو لنفسه ولغيره من المؤمنين ولايخص نفسه بالدعاء وهو سنة. هكذا في التبيين. ثم يقول: ربنا آتنا إلى آخره. كذا في الخلاصة. ولايدعو بما يشبه كلام الناس وما لايستحيل سؤاله من العباد، كقوله: اللهم زوجني فلانةً يشبه كلامهم، وما يستحيل كقوله: اللهم اغفر لي ليس من كلامهم، وقوله: اللهم ارزقني من قبيل الأول. كذا في الهداية. فلايجوز الدعاء بهذا اللفظ، هو الصحيح. كذا في العيني شرح الهداية.

مصباح اللغات: (ص: 151، ط: دار الاشاعت)
الحُزْن و الحَزَن: غم جمع اَحْزان۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)