سوال:
السلام علیکم، شیخ! میں ایک بات جاننا چاہتا ہوں۔ سورۂ جن کی آیت 26-27 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہی غیب کا جاننے والا ہے، اور وہ اپنے غیب کے علم پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسول کے۔
لیکن سورۂ قصص میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو غیب کی بات بتائی، حالانکہ وہ اللہ کی نبی نہیں تھیں۔ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو بھی غیب کی خبریں دی گئیں، حالانکہ وہ بھی نبیہ نہیں تھیں۔ مجھے ان باتوں کی سمجھ نہیں آرہی۔ براہ کرم آپ وضاحت فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ لفظِ وحی لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ایسی پوشیدہ بات کے متعلق خبر دینے کو کہا جاتا ہے کہ جس پر مخاطب کے علاوہ کوئی اور مطّلع نہ ہوسکے، اس قسم کی وحی عموماً الہام کے طور پر ہوتی ہے، اور اس معنی کے اعتبار سے وحی کا لفظ انبیاء کرام اور عام مخلوق سب کو شامل ہے، جیساکہ مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ، حضرتِ موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی والدہ کی طرف "سورہ طٰہ" کی آیت نمبر: 38 میں وحی کی نسبت کے متعلق تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "صحیح بات یہ ہے کہ لفظ وحی کے لغوی معنے ایسے خفیہ کلام کے ہیں جو صرف مخاطب کو معلوم ہو، دوسرے اس پر مطلع نہ ہوں۔ اس لغوی معنے کے اعتبار سے وحی کسی کے لئے مخصوص نہیں، نبی، رسول اور عام مخلوق بلکہ جانور تک اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔
"وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ" میں شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی تلقین و تعلیم کرنے کا ذکر اسی معنے کے اعتبار سے ہے، "اور آیت میں " اَوْحَيْنَآ اِلیٰ اُمِّكَ" بھی اس معنی لغوی کے اعتبار سے ہے، اس سے ان کا نبی یا رسول ہونا لازم نہیں آتا، جیسے حضرت مریم علیہا السلام کو ارشادات ربّانی پہنچے باوجودیکہ باتفاق جمہور امّت وہ نبی یا رسول نہیں تھیں، اس طرح کی لغوی وحی عموماً بطورِ الہام کے ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ کسی کے قلب میں ایک مضمون ڈال دیں اور اس کو اس پر مطمئن کردیں کہ اللہ کی طرف سے ہے، جیسے عموماً اولیاء اللہ کو اس قسم کے الہامات ہوتے رہے ہیں، بلکہ ابو حیّان اور بعض دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کی وحی بعض اوقات کسی فرشتے کے واسطے سے بھی ہوسکتی ہے، جیسے حضرت مریم کے واقعہ میں اس کی تصریح ہے کہ جبرئیل امین نے بشکل انسانی متمثّل ہو کر ان کو تلقین فرمائی مگر اس کا تعلّق صرف اس شخص کی ذات سے ہوتا ہے جس کو یہ وحی الہام ہوتی ہے۔ اصلاح خلق اور تبلیغ و دعوت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، بخلاف وحی نبوت کے کہ اس کا منشاء ہی مخلوق کی اصلاح کے لئے کسی کو کھڑا کرنا اور تبلیغ و دعوت کے لئے مامور کرنا ہوتا ہے، اس کے ذمّہ لازم ہوتا ہے کہ اپنی وحی پر خود بھی ایمان لائے اور دوسروں کو بھی اپنی نبوت کے ماننے اور اپنی وحی کے ماننے کا پابند بنائے جو اس کو نہ مانے اسے کافر قرار دے"۔ (معارف القرآن: 82/6، ط: مکتبہ معارف القرآن)
اس تمہید کے بعد سوال سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ "سورہ جِن" کی مذکورہ آیات اور "سورہ قَصَص" وغیرہ کی آیتوں میں آپ کو اس وجہ سے تعارض نظر آرہا ہے کہ "سورہ جِن" کی مذکورہ آیاتوں میں انبیاء کرام کو بعض غیب امور سے بذریعہ وحی مُطّلع کرنے کا ذکر آیا ہے، جبکہ یہی وحی کا لفظ حضرتِ موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی والدہ اور حضرت مریم علیہا الصلاۃ والسلام کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، لیکن اگر وحی کے متعلق مذکورہ بالا تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے غور سے دیکھا جائے تو حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ انبیاء کرام کے لیے وحی کا لفظ اصطلاحی معنیٰ (انبیاء کرام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام) استعمال ہوتا ہے، جبکہ حضرتِ موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی والدہ اور حضرت مریم علیہا الصلاۃ والسلام کے لیے وحی کا لفظ اصطلاحی معنیٰ کے اعتبار سے نہیں بلکہ لغوی معنیٰ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے، لہٰذا "سورہ جِن" کی مذکورہ آیات اور "سورہ قَصَص" وغیرہ کی آیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (القصص، الآية: 7)
وَأَوۡحَیۡنَاۤ إِلَىٰۤ أُمِّ مُوسَىٰۤ أَنۡ أَرۡضِعِیهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَیۡهِ فَأَلۡقِیهِ فِی ٱلۡیَمِّ وَلَا تَخَافِی وَلَا تَحۡزَنِیۤۖ إِنَّا رَاۤدُّوهُ إِلَیۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِینَ o
التفسير المظهري: (144/7، ط: مكتبة الرشيدية)
وأوحينا إلى أم موسى وهى يوخابذ بنت لاوى بن يعقوب عليه السلام كذا ذكر البغوي اجمعوا على انه ليس بوحي نبوة وان النبي لا يكون الا رجلا قال قتادة قذف فى قلبها وهو الإلهام فى اصطلاح الصوفية ومن جنسه المنام الصادق الموجب لليقين واطمينان القلب وهو ايضا من قبيل الإلهام.
عمدة القاري: (14/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
والوحي في الأصل الإعلام في خفاء..........وفي اصطلاح الشريعة هو كلام الله المنزل على نبي من أنبيائه والرسول
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی