سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا تھا کہ میرا بیٹا حفظ کر رہا ہے، تقریباً دس پارے مکمل ہوگئے ہیں، لیکن اب کچھ عرصے سے اس کا دل حفظ سے مکمل ہٹ ساگیا ہے، پچھلے پارے بھی بھول رہا ہے، نیا سبق بھی یاد کرنا مشکل ہو رہا ہے، بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں تو کیا میں اس وقت اس کوحفظ سے ہٹا دوں تو کوئی گناہ وغیرہ تو نہیں ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ قرآن پاک کا اتنا حصہ حفظ کرنا جس سے نماز ادا ہو جائے ہر مسلمان پر فرض ہے، اور خاص سورہ فاتحہ کا حفظ کرنا واجب ہے، جبکہ مکمل قرآن یاد کرنا اور اس کو سینوں میں محفوظ کرنا فرضِ کفایہ ہے، پوری امت میں سے چند افراد کے یاد کر لینے سے یہ فرض ادا ہو جاتا ہے، البتہ اس کے بعد بھی قرآن مجید زبانی یاد کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے جس پر بہت فضائل اور اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، احادیث مبارکہ میں منقول ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر جب شہید صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تدفین کا موقع آیا تو پوچھا گیا کہ پہلے کس کو قبر میں اتارا جائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جس صحابی کو قرآن مجید کا زیادہ حصہ یاد ہو پہلے اسے دفناؤ۔" (سننِ نسائی حدیث نمبر: 2017) یہ حدیث اور اس طرح کی اور بہت سی احادیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قرآن مجید اگر مکمل حفظ نہ کیا ہو، تب بھی کچھ پارے اور سورتوں کو یاد کرنے سے آدمی کو یاد کیے ہوئے حصہ کے مطابق فضائل اور اجر وثواب ملتا ہے۔
لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر دس پارے یاد کرنے بعد آپ کے بیٹے کے لیے مزید قرآن مجید حفظ کرنا مشکل ہو رہا ہو تو اسے مکمل کرنا ضروری نہیں، البتہ جتنا حصہ حفظ کرلیا ہے، اسے مستقل طور پر یاد رکھنا ضروری ہے، اس لیے کہ قرآن مجید کا یاد کیا ہوا حصہ بھلا دینا بہت بڑا گناہ ہے، احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داؤد: (باب فی کنس المسجد، رقم الحدیث: 461)
عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: عرضت علی أجور أمتي حتی القذأۃ یخرجھا الرجل من المسجد وعرضت علی ذنوب أمتي فلم أر ذنباً أعظم من سورۃ من القرآن أو آیة أوتیھا رجل ثم نسیھا۔
سنن نسائی: (رقم الحدیث: 2017، ط: مکتبة المطبوعات الاسلامیة)
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 5427، ط: دار طوق النجاۃ)
عن ابي موسى الاشعري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مثل المؤمن الذي يقرا القرآن كمثل الاترجة ريحها طيب وطعمها طيب، ومثل المؤمن الذي لا يقرا القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلو، ومثل المنافق الذي يقرا القرآن مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر، ومثل المنافق الذي لا يقرا القرآن كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر"۔
الدر المختار: (538/1، ط: دار الفکر)
(وَحِفْظُهَا فَرْضُ عَيْنٍ) مُتَعَيِّنٌ عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ، (وَحِفْظُ جَمِيعِ الْقُرْآنِ فَرْضُ كِفَايَةٍ) وَسُنَّةُ عَيْنٍ أَفْضَلُ مِنْ التَّنَفُّلِ وَتَعَلُّمُ الْفِقْهِ أَفْضَلُ مِنْهُمَا (وَحِفْظُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ) وَيُكْرَهُ نَقْصُ شَيْءٍ مِنْ الْوَاجِبِ
رد المحتار: (538/1، ط: دار الفکر)
قَوْلُهُ وَحِفْظُهَا) أَيْ الْآيَةِ فَرْضُ عَيْنٍ: أَيْ فَرْضٌ ثَابِتٌ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُكَلَّفِينَ بِعَيْنِهِ كَمَا أَشَارَ إلَيْهِ فِي شَرْحِ التَّحْرِيرِ......قَوْلُهُ وَحِفْظُ جَمِيعِ الْقُرْآنِ إلَخْ) أَقُولُ: لَا مَانِعَ مِنْ أَنْ يُقَالَ جَمِيعُ الْقُرْآنِ مِنْ حَيْثُ هُوَ يُسَمَّى فَرْضَ كِفَايَةٍ وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُ فَرْضَ عَيْنٍ وَبَعْضُهُ وَاجِبًا؛ كَمَا أَنَّ حِفْظَ الْفَاتِحَةِ يُسَمَّى وَاجِبًا وَإِنْ كَانَتْ الْآيَةُ مِنْهَا فَرْضًا أَيْ يَسْقُطُ بِهَا الْفَرْضُ فَافْهَمْ. مَطْلَبٌ السُّنَّةُ تَكُونُ سُنَّةَ عَيْنٍ وَسُنَّةَ كِفَايَةٍ (قَوْلُهُ وَسُنَّةَ عَيْنٍ) أَيْ يُسَنُّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُكَلَّفِينَ بِعَيْنِهِ، وَفِيهِ إشَارَةٌ إلَى أَنَّ السُّنَّةَ قَدْ تَكُونُ سُنَّةَ عَيْنٍ وَسُنَّةَ كِفَايَةٍ
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی