سوال:
محترم مفتی صاحب! دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کو قرآنِ کریم صحیح پڑھنا نہیں آتا، حروف و الفاظ کی درست ادائیگی نہیں جانتا اور اس کی قراءت میں لحنِ جلی (ایسی واضح غلطی جس سے لفظ یا معنی میں تبدیلی واقع ہو) پائی جاتی ہے۔ کیا ایسا شخص بچوں کو قرآنِ کریم پڑھا سکتا ہے اور بطورِ قرآن ٹیچر خدمات انجام دے سکتا ہے؟
جواب: قرآنِ کریم کی تعلیم و تدریس ایک نہایت عظیم دینی ذمہ داری ہے، لہٰذا حتیٰ الامکان ایسے مدرّس کا انتخاب کرنا چاہیے جو قرآنِ کریم کو صحیح مخارج، درست تلفظ اور تجوید کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اگر کسی وجہ سے ایسا ماہر مدرّس میسر نہ ہو، تو ایسی صورت میں ایسے شخص کو قرآن پڑھانے کے لیے مقرر کرنے کی گنجائش ہے جس نے باقاعدہ علم تجوید نہ پڑھا ہو، لیکن وہ قرآنِ کریم کو صحیح تلفظ اور درست ادائیگی کے ساتھ پڑھ سکتا ہو۔
البتہ اگر کسی شخص کی قراءت میں لحن جلی پایا جاتا ہو، یعنی وہ حروف یا الفاظ کی ایسی واضح غلطی کرتا ہو جس سے لفظ یا معنی میں تبدیلی واقع ہو، تو ایسے شخص کے لیے قرآنِ کریم کی تعلیم دینا یا اسے قرآن کا مدرّس مقرر کرنا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*منظومة المقدمة فيما يجب على القارئ أن يعلمه (11، ط: دار المغني)*
وَالأَخْذُ بِالتَّجْوِيدِ حَتْمٌ لازِمُ ... مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ الْقُرَآنَ آثِمُ.
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الفتاء الاخلاص کراچی