resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ذہن کمزور ہونے کی وجہ سے قرآن شریف یاد نہ رکھ سکے تو اس کا حکم

(42089-No)

سوال: میں اپنے بچپن، قرآنِ مجید سے تعلق، اور نماز کے بارے میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد نے مجھے بہت سختی کے ساتھ قرآنِ مجید حفظ کروایا۔ حفظ کے آغاز سے لے کر اختتام تک میں بار بار اپنے والدین اور اپنے قاری صاحب کو یہ بتاتا رہا کہ مجھے یاد کیا ہوا سبق صحیح طرح یاد نہیں رہتا اور میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا۔ لیکن دباؤ اور سختی کی وجہ سے میں نے کسی نہ کسی طرح حفظ مکمل کرلیا اور امتحان بھی پاس کرلیا۔
اس کے بعد سے میرے والد ہمیشہ مجھے حافظ کہتے ہیں، لیکن میں خود عموماً یہ لقب استعمال کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ حتیٰ کہ سرکاری کاغذات میں بھی اپنے نام کے ساتھ “حافظ” نہیں لکھتا۔ میرے والدین اکثر کہتے ہیں کہ حفظ برقرار نہ رکھنے میں میری کوتاہی اور گناہ ہے، کیونکہ میں نے اُس وقت بھی اور آج تک بھی اسے محفوظ رکھنے کے لیے کافی محنت نہیں کی۔
الحمدللہ، اب میں اخلاص کے ساتھ قرآن کو سمجھنے اور اسلام سے دوبارہ مضبوط تعلق قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں:
کیا حفظ برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے میں گناہگار ہوں، خاص طور پر ان حالات اور دباؤ کو دیکھتے ہوئے جن سے میں گزرا؟
اگر مجھ سے کوئی کوتاہی یا گناہ ہوا ہے تو میں توبہ کیسے کروں اور اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کروں؟
بچپن میں سختی، خوف، اور جسمانی سزا کے تجربات کی وجہ سے میں نماز سے بھی دور ہوگیا تھا، اور کئی سالوں کی نمازیں ترک رہیں (سوائے جمعہ اور عید کی نمازوں کے)۔ اب الحمدللہ میرا دل دوبارہ دین کی طرف مائل ہو رہا ہے اور میں سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنی چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا کیسے ادا کروں؟ اس کا درست اور عملی طریقہ کیا ہے؟

جواب: (۱) عام حالات میں قرآن شریف بھولنے پر شدید وعید وارد ہوئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ ہر انسان کو اللہ تعالی نے اس کی وسعت اور استطاعت کے بقدر ہی احکام کا مکلّف بنایا ہے، لہٰذا اگر آپ قرآن شریف یاد کرنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر تلاوت كا اہتمام کرتے ہیں، اس کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور رمضان المبارک میں قرآن شریف تراویح میں سنانے کا اہتمام کرتے ہیں، اس کے باوجود آپ قرآن شریف کو صحیح سے یاد نہیں رکھ پاتے تو ان شاء اللہ اس پر مواخذہ نہیں ہوگا، تاہم اس کے لیے کوشش کرتے رہنا شرط ہے، اگر اس کے ساتھ درج ذیل دعا کا بھی اہتمام رکھیں تو دنیا وآخرت کے لیے مزید مفید رہے گا:
"رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ "●
ترجمہ: "اے ہمارے پروردگار اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ فرمایئے۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالیے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمایئے، ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لیے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمایئے۔"
واضح رہے کہ قرآن شریف بھولنے کی وعید کا تعلق فقہائے حنفیہؒ کے نزدیک اس صورت میں ہے، جب کوئی حافظ قرآن کو اس حد تک بھول جائے کہ دیکھ کر (ناظرہ) بھی صحیح طریقے سے نہ پڑھ سکے، جبکہ دیگر فقہاء کے نزدیک اگر زبانی طور پر یاد نہ ہو، اور منہ زبانی نہ پڑھ سکتا ہو اگرچہ دیکھ کر پڑھ سکتا ہو تو وہ بھی اس وعید میں داخل ہے، بعض اہلِ علم حضرات کے نزدیک وعید اس صورت سے متعلق ہے کہ محض غفلت اور لاپرواہی کا مظابرہ کرتے ہوئے پڑھنا چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا حفظ ضائع ہوجائے۔

(۲) انسان سے گناہ ہوجاتا ہے، اس لیے اسے توبہ و استغفار کا معمول بنانا چاہیے، اور اپنی حالت بہتر کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً علماء و مشائخ اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا اہتمام کریں۔
(۳) نمازوں کی قضاء سے متعلق دارالافتاء کا تفصیلی فتویٰ درج ذیل لنک پر ملاحظہ ہو:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=8272

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (البقرة، الآية: 286)
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ o﴾

سنن أبي داود: (رقم الحديث: 1474، 598/2)
«حدَّثنا محمدُ بنُ العلاء، حدَّثنا ابنُ إدريس، عن يزيدَ بن أبي زيادٍ، عن عيسى بن فائد عن سعد بن عبادة، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "مَا مِن امرئٍ يَقرَأ القرآن، ثم ينساه إلا لقيَ الله يَومَ القَيامة أجذَمَ"»

شرح سنن أبي داود لابن رسلان: (199/7، ط: دار الفلاح)
«(عن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ما من امرئ يقرأ القرآن) القرآن يطلق على جميعه (ثم ينساه) أي: جميعه، ويحتمل أن يراد ينسى غير ما يعتاد غير حفاظ القرآن حفظه من قصار المفصل؛ لأنها لكثرة [ما يتداولها] الأئمة في الصلاة وغيرهم لا ينسى.۔۔۔۔۔ *فأما من نسي القرآن لعلة تلحقه [عن آفة] من كبر أو مرض أو سوء مزاج وهو مع ذلك مقبل على تلاوة ما يقدر عليه فإنه إن شاء الله غير آثم.*»

بذل المجهود في حل سنن أبي داود: (190/6، ط: مركز الشيخ أبي الحسن)
«(عن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه) أي بالنظر عندنا، وبالغيب عند الشافعي، أو المعنى ثم يترك قراءته نسي أو ما نسي (إلَّا لقي الله يوم القيامة أجذم) أي ساقط الأسنان، أو على هيئة المجذوم، أو ليست له يد، أو لا يجد شيئًا يتمسك به في عذر النسيان، أو ينكس رأسه بين يدي الله حياء وخجالة من نسيان كلامه الكريم.
وقال الطيبي: أي مقطوع اليد من الجذم وهو القطع، وقيل: مقطوع الأعضاء، يقال: رجل أجذم إذا تساقطت أعضاؤه من الجذام، وقيل: أجذم الحجة، أي لا حجة له، ولا لسان يتكلم [به]، وقيل: خالي اليد عن الخير.»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat