resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اضافی بل بنوانے کے لیے دکاندار کا خریدار کو اپنا خالی لیٹر پیڈ اور ای اسٹیمپ(E-stamp) دینا

(42121-No)

سوال: میں ایک بک سیلر ہوں، ایک ادارے نے فوٹو اسٹیٹ کی کوٹیشن مانگی، ہم نے چار روپے کی کوٹیشن دی، اب ان کا کہنا ہے کہ e stam اور پیڈ آپ ہم کو خالی دیں، لکھائی ہم خود کریں گے۔ ہم نے ان کو چار روپے کا ریٹ دیا ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ بل ہم اپنے حساب سے نو یا دس کا بنا کر گورنمنٹ سے وصول کریں گے، آپ کے ساتھ معاملہ چار روپے کا ہوگا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے لیے کام کرکے دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں خریدار کا فروخت کنندہ (دکاندار) سے ای اسٹیمپ (E-Stamp) یا دستخط شدہ/خالی لیٹر پیڈ اس غرض سے حاصل کرنا کہ وہ اپنی مرضی سے اصل قیمت سے زیادہ رقم کا بل تیار کرکے کسی ادارے یا اپنے موکل سے زائد رقم وصول کرسکے تو یہ عمل شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ جھوٹ، دھوکہ دہی اور ناحق مال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اسی طرح فروخت کنندہ (seller) کے لیے بھی جانتے ہوئے ایسے مقصد کے لیے خالی پیڈ، ای اسٹیمپ یا اصل معاملہ سے زائد رقم کا بل فراہم کرنا، گناہ اور ظلم (تعاون علی الاثم) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم اگر اس صورت میں فروخت کنندہ نے فوٹو اسٹیٹ کی طے شدہ اصلی قیمت (4 روپے ) وصول کرلی تو اس آمدنی کو حرام نہیں قرار دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الاية: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ... الخ

مشكاة المصابيح: (كتاب البيوع، 889/2، ط: المكتب الإسلامي)
أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ

مجلة الأحكام العدلية: (المادة: 97، ط: نور محمد كراتشي)
لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment