سوال:
ایک شخص کسی دکان میں ملازم ہے، اس کا کھانا، پینا، رہائش اور دیگر ضروری اخراجات مالکِ دکان کے ذمہ ہیں۔ نیز یہ شخص مستقل طور پر اسی دکان کا ملازم ہے اور معاہدے کی وجہ سے کسی دوسری جگہ کام بھی نہیں کرسکتا، البتہ مالک اس کو ماہانہ تنخواہ دینے کے بجائے روزانہ (ڈیلی ویجز) کے حساب سے اجرت ادا کرتا ہے، اب اگر مذکورہ ملازم کسی مجبوری، بیماری یا ذاتی ضرورت کی وجہ سے ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ دن چھٹی کرلے اور ان دنوں میں کام پر حاضر نہ ہو تو کیا مالک کے لیے ان دنوں کی اجرت کاٹنا شرعاً جائز ہے؟ جبکہ ملازم مستقل طور پر اسی کے ساتھ وابستہ ہے اور کسی دوسری جگہ روزگار حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں رکھتا۔
اسی طرح اگر مالک غیر حاضری کے ان دنوں کی اجرت ادا کردے یا ملازم وہ اجرت وصول کرلے تو کیا شرعاً اس اجرت کا لینا جائز ہوگا یا نہیں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اصولی طور پر ملازم جس دن کام پر حاضر نہ ہو تو مالک کیلیے اس دن کی اجرت کاٹنا شرعاً درست ہے، تاہم اگر مالک خود اپنی مرضی سے غیر حاضری کے دن کی اجرت دیدے تو اس کے لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، نیز بہتر ہے کہ چھٹیوں کے سلسلے میں باہمی رضامندی سے کوئی جائز پالیسی طے کرلی جائے، تاکہ بعد میں نزاع کی نوبت پیش نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (69/6، ط: دار الفکر)
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل"
شرح المجلة للاتاسی: (492/2، ط: رشیدیة)
المادۃ 425 - الاجیر الخاص یستحق الاجرة اذا کان فی مدة الاجارة حاضرا للعمل و لا یشترط عمله بالفعل
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی