سوال:
ایک مسلمان والدین کے بیٹے نے کچھ سال پہلے ایک ہندو لڑکی سے شادی کرلی اور تاحال اس کے اسلام قبول کیۓ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہا ہے ۔ والدین کئی سال اس سے قطع تعلق کیے رہے مکر کچھ عرصے سے اس کی محبت میں اس سے تھوڑا بہت ملنا شروع کر چکے ہیں مگر اس کی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔
وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں شریعت کہاں تک تعلق رکھنے کی اجازت دیتی ہے ؟ کیا ان والدین کو اپنے اس بیٹے سے مکمل قطع تعلق کرلیناچاہیے؟ نیز کیا یہ لڑکا والدین کی جائیداد میں اتنے ہی حصے کا حق دار ہے جتنا دوسرے بیٹے ہیں؟
جواب: مذکورہ صورت میں چونکہ لڑکی نے اسلام قبول نہیں کیا، اس لیے اس کے اور مسلمان لڑکے کے درمیان شرعی نکاح منعقد نہیں ہوا، لہٰذا ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ)ترجمہ: ’’اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔‘‘ (البقرہ:۲۲۱)
اب آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
(1) شریعتِ مطہرہ میں بلاوجہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنا جائز نہیں، لیکن جب کوئی شخص علانیہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو اور نصیحت قبول نہ کرتا ہو تو اس کی اصلاح اور تنبیہ کے لیے اس سے وقتی بائیکاٹ یا سخت رویہ اختیار کرنا جائز بلکہ بعض حالات میں مطلوب ہوتا ہے۔
البتہ اس سلسلے میں درج ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے:
• اگر والدین کو غالب گمان ہو کہ سختی اور بائیکاٹ سے بیٹا اپنے ناجائز تعلق سے باز آ جائے گا تو سختی اختیار کرنا مناسب ہے۔
• اگر مکمل قطع تعلق کی وجہ سے اس کے مزید بگڑ جانے، دین سے دور ہونے یا ارتداد کا اندیشہ ہو تو حکمت کے ساتھ محدود تعلق برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
• تعلق برقرار رکھنے کی صورت میں مقصد صرف اصلاح، نصیحت اور خیر خواہی ہونا چاہیے، ایسا کوئی طرزِ عمل اختیار نہ کیا جائے جس سے اس ناجائز تعلق کی تائید یا رضامندی کا تاثر پیدا ہو۔
(2) کسی مسلمان کا کبیرہ گناہ میں مبتلا ہونا، جب تک وہ کسی قطعی کفر یا ارتداد کا مرتکب نہ ہو، اسے اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ لہٰذا اگر مذکورہ شخص اپنے عقیدہ کے اعتبار سے مسلمان ہے تو وہ فاسق اور گناہ گار ہونے کے باوجود مسلمان شمار ہوگا۔ اس بنا پر والدین کے انتقال کے بعد وہ دیگر وارثوں کی طرح اپنے شرعی حصے کا حق دار ہوگا۔ محض نافرمانی، فسق یا گناہ کی وجہ سے اسے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ شریعت میں کسی وارث کو "عاق" قرار دے کر وراثت سے محروم کرنے کا اختیار موجود نہیں۔
البتہ اگر والدین اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کا مال بطورِ ہبہ اولاد میں تقسیم کرنا چاہیں اورمذکورہ مصلحت کے پیشِ نظر اس بیٹے کو تنبیہاََ کچھ کم دینا چاہیں تووہ ایسا کرسکتے ہیں، تاہم وفات کے بعد باقی رہ جانے والے ترکے میں تمام شرعی وارث بشمول اس بیٹے کے اپنے مقررہ حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے، انہیں محروم نہیں کیاجاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن الکریم: (البقرہ:۲۲۱)*
وَلَا تَنْکِحُوْا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ ۔ _
*الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الطلاق، باب العدة، فصل في ثبوت النسب، 555/3)*
لایجوز نکاح المجوسیات ولا الوثنیات وسواء فی ذلک الحرائر منھن والاماء کذا فی السراج الوھاج ویدخل فی عبدۃ الاوثان عبدۃ الشمس والنجوم والصور التی استحسنوھا۔ الخ۔ (عالمگیری ص ۲۸۱، ج ۱)"
*الدر المختار :*
"وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل..... وفي الرد:قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل."
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی