عنوان: دو طویل آیات تلاوت کرنے کی صورت میں نماز کا حکم(104214-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! حافظ صاحب نے تراویح کی نماز میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر چھیالیس اور سینتالیس تلاوت کی (جس میں ایک لفظ التوراة سہواً رہ بھی گیا) اور رکوع میں چلے گئے، رہنمائی فرمائیں کہ کیا مقدار تلاوت پوری ہوگئی؟

جواب: واضح رہے کہ نماز میں تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت کا پڑھنا واجب ہے، سورہ مائدہ کی آیت نمبر 46 اور47 بڑی آیتیں ہیں، صورت مسئولہ میں مذکورہ آیتیں تلاوت کرنے سے قرأت کی واجب مقدار تلاوت کی جا چکی تھی، لہذا نماز درست ہے۔

صورت مسئولہ میں امام سے آیت کا جو حصہ چھوٹا ہے، اس سے معنی میں تغیرِ فاحش واقع نہیں ہوا ہے، لہذا نماز درست ہے۔

_________________________
دلائل:

کما فی الکنز العمال:

عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: لا تجزئ المکتوبۃ إلا بفاتحۃ الکتاب وثلاث آیات فصاعداً۔

(ج:7، ص: 180، رقم الحدیث: 19686، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

کما فی الدر مع الرد:

ولہا واجبات: وہي قراء ۃ فاتحۃ الکتاب وضم سورۃ کالکوثر أو ما قام مقامہا، وہو ثلاث آیات قصار نحو {ثُمَّ نَظَرَ۔ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَکْبَرَ} وکذا لو کانت الآیۃ أو الاٰیتان تعول ثلاثا قصاراً۔

(باب صفۃ الصلاۃ ، مطلب واجبات الصلاۃ، ج:2، ص:146، زکریا)

وایضا:

ولوزادکلمۃ اونقص کلمۃ۔۔۔لم تفسدمالم یتغیرالمعنی۔

(ج:1، ص:632)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 414
do taweel aayat tilawat karne ki soorat mai namaz ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.