resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: منگنی ٹوٹنے کی صورت میں زمین کی واپسی اور دل آزاری کے معاوضے کا شرعی حکم

(42140-No)

سوال: رضوان اپنے( بیٹے کے رشتے کے سلسلے میں )چار بھائیوں اور والدین کے ہمراہ اپنی بڑی بہن کے گھر اس کی بیٹی (بھانجی) کے رشتے کے سلسلے میں گیا۔ اس موقع پر زید کے بہنوئی (یعنی لڑکی کے والد) نے اپنی بیٹی کا رشتہ اس شرط پر دینے پر آمادگی ظاہر کی کہ لڑکا لڑکی کے نام مانسہرہ میں کسی بھی مناسب مقام پر 5 مرلہ زمین خرید کر منتقل کرے گا، اور شادی کے بعد لڑکی کو گاؤں میں نہیں رکھے گا بلکہ اسی زمین پر مکان تعمیر کرکے مستقل رہائش اختیار کرے گا۔
یہ تمام شرائط لڑکی کے والد کی جانب سے پیش کی گئیں، جنہیں لڑکے کے والد، اس کے بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ نے قبول کر لیا، بعد ازاں دعا کر کے منگنی کر دی گئی، منگنی کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا، اس دوران لڑکے والوں نے اگرچہ شرط کے مطابق 5 مرلہ زمین خرید کر لڑکی کے نام منتقل کر دی، لیکن مالی یا دیگر وجوہات کی بنا پر اس زمین پر مکان تعمیر نہ کر سکے، حالانکہ ابتدائی شرط کے مطابق مکان بنانا بھی طے پایا تھا۔ بعد ازاں اسی بنیاد پر لڑکے کے والد نے یہ رشتہ ختم کر دیا، اس پورے معاملے میں لڑکی کے والد کے خاندان کے دیگر افراد شامل نہیں تھے بلکہ بعد میں لڑکی کے والد نے اپنی ماں اور بھائیوں کو اس رشتے سے متعلق آگاہ کردیا تھا، اب جبکہ رشتہ ختم ہو چکا ہے، لڑکی کے والد کا موقف ہے کہ اس واقعہ سے( معاشرے اور ان کے خاندان میں بےعزتی ہوئی ہے) ان کی عزتِ نفس مجروح ہوئی ہے، اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ لڑکی کے نانا اور نانی نے اپنے داماد (لڑکی کے والد) سے اس معاملے پر معذرت بھی کی ہے، لیکن لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے قبول کریں گے، لہٰذا اہلِ علم و مفتیانِ کرام سے گزارش ہے کہ درج بالا صورتحال کی روشنی میں شریعتِ اسلامیہ کا فیصلہ بیان فرمائیں جبکہ نکاح منعقد نہیں ہوا تھا اور صرف منگنی ہوئی تھی تو رشتہ ختم کرنے کے بعد شرعی اعتبار سے فریقین کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
لڑکی کے والد کی بے عزتی یا دل آزاری کے ازالے کے حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟
جو 5 مرلہ زمین لڑکے والوں نے خرید کر لڑکی کے نام منتقل کر دی تھی، کیا لڑکے والوں کو شرعاً اس زمین کی واپسی کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جائے۔

جواب: (1) منگنی ختم ہونے پر فریقین کی شرعی ذمّہ داریاں:
منگنی شرعی اعتبار سے محض نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں، لہٰذا جب تک ایجاب و قبول کے ساتھ باقاعدہ عقدِ نکاح منعقد نہ ہو، لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی رہتے ہیں اور ان کے درمیان میاں بیوی کے حقوق و فرائض قائم نہیں ہوتے، اگرچہ بلا عذر منگنی توڑنا اخلاقی طور پر ناپسندیدہ اور وعدہ خلافی ہے، تاہم اس پر کوئی شرعی حد، تعزیری سزا یا مالی جرمانہ لازم نہیں آتا۔
(2) لڑکی کے والد کی بے عزتی اور دل آزاری کے ازالے کا حکم:
رشتہ ٹوٹنے سے لڑکی اور اس کے والد کو جو ذہنی اذیت، دل آزاری یا معاشرتی سبکی برداشت کرنی پڑی، وہ قابلِ افسوس ضرور ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ قصوروار فریق معذرت کرے، جو کہ ان میں سے بعض افراد نے کی بھی ہے، لہٰذا لڑکی کے والد کو چاہیے کہ وہ اسے قبول کر کے معافی و درگزر سے کام لیں اور معاملے کو ختم کردیں۔ شریعت میں محض دل آزاری یا ہتکِ عزت کی بنیاد پر کوئی متعیّن مالی تاوان مقرّر نہیں کیا گیا، باہمی رنجش اور دل آزاری کا حل معافی، حسنِ اخلاق اور مصالحت میں ہی ہے۔
(3) نام کی گئی 5 مرلہ زمین کی واپسی کا شرعی حق:
وہ 5 مرلہ زمین جو لڑکے والوں نے لڑکی کے نام منتقل کی تھی، اس کا شرعی حکم یہ ہے اگر وہ مہر کے طور پر دی گئی تھی تو چونکہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، اس لیے مہر واجب نہیں ہوا اور زمین واپس کرنا لازم ہے اور اگر اسے تحفہ یا ہبہ قرار دیا جائے تب بھی فقہِ حنفی کے مطابق منگنی کے دوران دیا گیا ایسا ہبہ جو اپنی اصل حالت میں موجود ہو، (بالخصوص جبکہ یہاں اس پر قبضہ بھی نہیں ہوا) رشتہ ختم ہونے پر واپس لیا جا سکتا ہے، نیز یہ زمین نکاح اور آئندہ ازدواجی زندگی کے مقصد سےنام کی گئی تھی اورجب نکاح ہی نہیں ہوا تو اس ہبہ کی بنیاد بھی ختم ہوگئی، اس لیے لڑکے والوں کو اپنی خریدی ہوئی 5 مرلہ زمین واپس لینے کا مکمل شرعی حق حاصل ہے اور لڑکی والوں کے لیے اسے بطورِ جرمانہ یا دل آزاری کے معاوضے کے طور پر اپنے پاس رکھنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ زمین واپس منتقل کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*القرآن الکریم: (بنی اسرائیل، الآیۃ: 34)*
وَ اَوْفُوْا بِالْعَہْدِ ۚ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا

*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 11، دار الفكر-بيروت)*
لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اه


*الشامیة: (کتاب الحدود ،باب التعزیر،61/4،سعید)*
"مطلب في التعزير بأخذ المال
(قوله: لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اه. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: و لايفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اه"

*الطحطاوي علی الدر: (44/2، ط:دار المعرفۃ بیروت)*
خطب بنت رجل وبعث إلیہا أشیاء ولم یزوجہا أبوہا فما بعث للمہر یسترد عینہ قائماً فقط، وإن تغیر بالاستعمال أو قیمتہ هالکًا؛ لأنہ معا وضۃ ولم تتم فجاز الاسترداد، وکذا یسترد ما بعث هدیۃ وهو قائم دون الہالک والمستہلک؛ لأن فیہ معنی الہبۃ.

*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 153، ط: دار الفكر-بيروت)*
( خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما ) فقط وإن تغير بالاستعمال ( أو قيمته هالكا ) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد ( وكذا ) يسترد ( ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك ) لأنه في معنى الهبة ۔وفی الردتحتہ:قوله ( لأنه في معنى الهبة ) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها وعبارة البزازية لأنه هبة اھ ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع.

*شرح المجلۃ للاتاسی: (3/ 393، ط: رشيدية)*
"للواهب أن يراجع عن الهبة قبل القبض بدون رضا الموهوب له ... وهل يكره ذلك كما يكره الرجوع بعد القبض؟ الظاهر أنها لا تخلو عن الكراهة، لأن الرجوع ليس بأقل من الخلف بالوعد".

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah