سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میں اٹلی میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، کام پر جب دوپہر کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے تو غیر مسلم بھی میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ وہ اپنا کھانا ریسٹورنٹ سے منگواتے ہیں اگرچہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر صرف سبزی یا حلال کھانا ہی کھاتے ہیں لیکن جن ریسٹورنٹس سے وہ یہ کھانا منگواتے ہیں، وہاں اس بات کا امکان ہوتا ہے کے حلال کھانے میں بھی کوئی حرام یا نجس چیز (جیسے شراب) ملی ہو اور اس بات کا بھی امکان ہوتا ہے کہ ریسٹورنٹ والے جو چمچہ شراب کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہی حلال چیز کے لیے بھی استعمال کر رہے ہوں۔
میرا سوال ہے کہ اگر ان کے کھانے میں میرا ہاتھ لگ جائے یا وہ کھانا میرے کپڑوں پر گر جائے تو کیا میرے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے
یا صرف شک اور امکان پر کھانے کو ناپاک نہیں سمجھا جائے گا؟ جزاک اللہ
جواب: اگر مذکورہ غیر مسلم صرف حلال کھانا اور سبزی ہی منگوانے کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کا کھانا آپ کے ہاتھ یا کپڑوں پر لگ جائے تو محض اس شک کی بنیاد پر کہ 'اس میں کوئی حرام چیز ملائی گئی ہو یا حرام کھانے ميں استعمال ہونے والا چمچہ استعمال کیا گیا ہوگا" اس کھانے کو ناپاک نہیں سمجھا جائے گا، جب تک کہ ناپاکی کی واضح دلیل یا علامت موجود نہ ہو۔
تاہم جس کھانے کے تمام اجزاء کے حلال ہونے سے متعلق یقین نہ ہو تو اس کے کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 45، ط: دار الكتب العلمية)*
«وتؤكل ذبيحة أهل الكتاب لقوله تعالى {وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم} [المائدة: 5] والمراد منه ذبائحهم إذ لو لم يكن المراد ذلك لم يكن للتخصيص بأهل الكتاب معنى؛ لأن غير الذبائح من أطعمة الكفرة مأكول»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی