سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میں اٹلی میں رہتا ہوں اور یہاں بہت ساری پروڈکٹس جیسے کیک، بسکٹ اور آئس کریم میں شیرہ ساز یا ایملسیفائرز کا استعمال ہوتا ہے جو کہ گلیسرین سے حاصل ہو جاتے ہیں۔
گلیسرین کے حوالے سے فتوی میں نے ایک فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا کہ "جب تک گلیسرین کے نباتات یا شرعی طریقے سے ذبح شدہ حلال جانور سے ماخوذ ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تب تک اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے" ، یہاں تحقیق کرنے پر علم ہوا کہ یہاں %95 یا تقریباً سب پروڈکٹس میں جو ایملسیفائرز استعمال ہوتے ہیں، وہ نباتات سے حاصل شدہ گلیسرین سے حاصل کیے جاتے ہیں۔سوال ہے کہ
تحقیق سے حاصل شدہ غالب گمان %95 یا اس سے بھی زیادہ حلال کا ہونا کافی ہے یا ہر پروڈکٹس کے لیے ایملسیفائرز کے حلال ہونے کے حوالے سے الگ الگ تحقیق کرنا ہوگی؟
میرا دوسرا سوال اسی موضوع کے حوالے سے ہے کہ میں نے ایک دوسرا فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا "جن اشیاء میں خنزیرکی چربی استعمال کی جاتی ہے، ان کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگرکیمیائی طریقے سےخنزیرکی چربی کی ماہیت تبدیل کردی جاتی ہوتو ایسے اشیاء کا استعمال جائزہوگا۔"
اس حوالے سے سوال ہے کہ جیسے گلیسرین اور جیلاٹین کو بھی کھانے اور پینے کی پروڈکٹس میں استعمال سے پہلے ایک کیمیائی عمل (chemical process) سے گزارا جاتا ہے، کیا ان کھانے پینے والی چیزوں کے استعمال کو جائز بنانے کے لیے وہ کیمیائی عمل کافی ہے؟ ایک ماہرِ حلال اورحرام مفتی ہونے کی حیثیت سے اس کا شرعی جواب دیں۔
جواب: ۱) شریعتِ مطہّرہ میں بہت سے عملی معاملات میں ظنِ غالب (غالب گمان) معتبر ہوتا ہے، لہٰذا اگر معتبر تحقیق، مستند ذرائع یا کسی ملک یا مخصوص برانڈ کے عمومی صنعتی معیار سے یہ غالب گمان حاصل ہو جائے کہ استعمال ہونے والی گلیسرین (Glycerin) یا ایملسیفائر (Emulsifier) غالباً نباتاتی (Vegetable based) ہے تو اس پر عمل کرنا جائز ہے اور ہر ہر پروڈکٹ کی الگ الگ تحقیق لازم نہیں، البتہ اگر کسی مخصوص پروڈکٹ میں حرام یا مشکوک حیوانی ماخذ کی صراحت موجود ہو، یا اس کے بارے میں معتبر طور پر خلافِ واقع معلومات سامنے آجائیں تو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہوگا، لہٰذا 95 فیصد یا اس کے قریب معتبر امکان اگر واقعی ظنِّ غالب کی حد تک پہنچتا ہو تو شرعاً اس کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔
۲) استحالہ (State change) کا اصول فقہ اسلامی میں معروف ہے، یعنی اگر کوئی ناپاک یا حرام چیز مکمل کیمیائی تبدیلی کے بعد اپنی پہلی حقیقت اور اوصاف سے نکل کر نئی ماہیت اختیار کر لے تو بعض فقہاء کے نزدیک اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔ تاہم جدید غذائی اجزاء کے بارے میں ہر مادے پر یہ اصول یکساں لاگو نہیں ہوتا۔ گلیسرین کے بارے میں بعض معاصر اہلِ علم نے مکمل کیمیائی تبدیلی کی صورت میں گنجائش کا قول اختیار کیا ہے، جبکہ جیلاٹین کے بارے میں معاصر فقہاء کی ایک بڑی تعداد کی رائے یہ ہے کہ اس میں استحالہ مکمل طور پر ثابت نہیں، اس لیے اگر وہ غیر مذکی یا حرام جانور سے حاصل کی گئی ہو تو اس سے احتراز ہی زیادہ محتاط اور راجح عمل ہے۔
اسی بنا پر جہاں ممکن ہو، حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کا انتخاب کرنا زیادہ اطمینان اور احتیاط کا باعث ہے اور اشتباہ کی صورت میں حلال سرٹیفیکیشن کے کسی معتبر ادارے کےمستند مفتیان کرام اور ماہرین خوراک سے رابطہ کرنا مناسب ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 568،دار إحياء التراث العربي)
واعلم أن الأصل في الأشياء كلها سوى الفروج الإباحة قال الله تعالى {هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا} [البقرة: 29] وقال {كلوا مما في الأرض حلالا طيبا} [البقرة: 168] وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة.
البناية شرح الهداية (12/ 342، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
والأشربة كلها مباحة بالعقل إلا ما ورد الشرع بتحريمه لأن الأشياء كلها على الإباحة في الأصل عندنا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 209)
مطلب في المسك والزباد والعنبر (قوله طاهر حلال) ؛ لأنه وإن كان دما فقد تغير فيصير طاهرا كرماد العذرة خانية، والمراد بالتغير الاستحالة إلى الطيبة وهي من المطهرات عندنا.
الأشباه والنظائر: (ص: 94، ط:دار الكتب العلمية)
ومنها: لو اختلط ودك الميتة بالزيت ونحوه لم يؤكل إلا عند الضرورة. والمسألتان في صلاة الخلاصة من فصل اشتباه القبلة. ومقتضي الثانية أنه لو اختلط لبن بقر بلبن أتان، أو ماء وبول، عدم جواز التناول ولا بالتحري.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی