resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہمبستری کے بعد اُسی طہر میں طلاق دینا

(42148-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اپنے ازدواجی تعلق کے بارے میں ایک فوری اور قطعی شرعی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے یہ درخواست پیش کر رہی ہوں، میری اور میرے شوہر کی شادی 13 جون 2025 کو ہوئی تھی، اس کے بعد سے ہمارے درمیان شدید غصے، جسمانی تشدد اور متعدد مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا ہمارا نکاح شرعاً ختم ہو چکا ہے یا نہیں، کیونکہ میں کسی بھی حرام تعلق میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ ہوں۔ واقعات کی مکمل ترتیب درج ذیل ہے:
27 جون 2025: میرے شوہر نے شدید غصے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں تین سے زیادہ مرتبہ طلاق کے الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہے۔ وہ غصے میں تھے، لیکن اپنے الفاظ اور اعمال کا شعور رکھتے تھے۔ بعد میں ہمارے درمیان صلح ہوگئی۔ 14 جولائی 2025: انہوں نے دوبارہ طلاق کے الفاظ کہے، پھر صلح ہوگئی۔ 11 اگست 2025: انہوں نے پھر طلاق کے الفاظ کہے، بعد میں صلح ہوگئی۔ 28 اکتوبر 2025: انہوں نے ایک مرتبہ پھر طلاق کے الفاظ کہے، اور بعد میں صلح ہوگئی۔ 4 نومبر 2025: انہوں نے واضح طور پر "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہا، اور اپنا اور میرا نام لے کر یہ الفاظ تین سے زیادہ مرتبہ دہرائے۔ بعد میں صلح ہوگئی۔ 12 دسمبر 2025: انہوں نے ایک کانفرنس کال کے دوران طلاق کے الفاظ کہے۔ بعد میں صلح ہوگئی۔ 24 مارچ 2026: ایک فون کال پر انہوں نے واضح طور پر تین مرتبہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہا۔ اس واقعے کے بعد میں گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر آگئی، جہاں اس وقت مقیم ہوں۔
غصے اور رویّے کی کیفیت:
پہلے چار واقعات میں میرے شوہر کا غصہ اس حد تک شدید ہوتا تھا کہ وہ خود کو نقصان پہنچاتے تھے اور مجھ پر بھی جسمانی تشدد کرتے تھے۔ تاہم آخری تین واقعات (نومبر، دسمبر اور مارچ) میں جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ انہوں نے طلاق کے الفاظ واضح اور ارادی طور پر ادا کیے۔
موجودہ اختلاف اور مختلف فتاویٰ:
جن مقامی علماء سے میں نے رابطہ کیا، ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان مکمل اور ناقابلِ رجوع طلاق واقع ہو چکی ہے۔ لیکن میرے شوہر نے سعودی عرب کے ایک آن لائن عالم مفتی صاحب سے رابطہ کیا، جنہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان کسی طہر (پاکی کے دورانیے) میں طلاق کے الفاظ کہنے سے پہلے ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو، تو بعد میں دی جانے والی طلاق منسوخ یا غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
میرے شوہر اسی ایک آن لائن فتویٰ کی بنیاد پر مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں دوبارہ ان کے گھر واپس آ جاؤں۔ لیکن مجھے قرآن و حدیث یا فقہ کی کسی معتبر کتاب میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی کہ طلاق سے پہلے ہونے والا ازدواجی تعلق بعد میں دی جانے والی طلاق کو کالعدم قرار دے دیتا ہو۔
میرے مخصوص سوالات:
1) اگر ایک طہر میں طلاق کے الفاظ کہنے سے پہلے میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو، تو کیا بعد میں دی گئی طلاق شرعاً معتبر اور واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
2) جبکہ میرے شوہر مختلف اوقات میں سات مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کر چکے ہیں، تو کیا کسی معتبر فقہی مسلک کے مطابق ہمارا نکاح اب بھی برقرار ہے؟
3) اس وقت میرے لیے شرعی طور پر کیا حکم ہے؟ کیا مجھے شوہر کے مطالبے پر ان کے گھر واپس جانا چاہیے یا نہیں؟
میں مؤدبانہ درخواست کرتی ہوں کہ اس مسئلے میں ایک باقاعدہ تحریری فتویٰ یا شرعی فیصلہ عطا فرمایا جائے، تاکہ میں اسے اپنے خاندان اور شوہر کے سامنے پیش کر سکوں اور یہ معاملہ شریعت کے مطابق ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائے۔ براہِ کرم اس اہم معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ آپ کے چند منٹ میرے لیے بہت بڑی مدد ثابت ہوں گے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: 1) جس عورت کو حیض آتا ہو، اس کو طلاق دینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ایک طلاق ایسے طہر میں دی جائے جس میں شوہر نے اس بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کی ہو، لیکن اگر کوئی شخص ہمبستری کے بعد اسی طہر میں بیوی کو طلاق دیدے تو یہ طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔
2/3) پوچھی گئی صورت میں آپ کے شوہر نے تین سے زائد مرتبہ صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہے، اس لیے آپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اب آپ کے لیے اپنے اس سابقہ شوہر کے ساتھ رہنا یا تنہائی اختیار کرنا بالکل بھی جائز نہیں ہے، موجودہ حالات میں نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح ممکن ہے۔
البتہ تین طلاقوں کے بعد پہلے شوہر کی عدت گزار کر اگر آپ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلیں، اور اس سے ازدواجی تعلق بھی قائم ہو جائے، پھر کسی وجہ سے دوسرے شوہر سے آپ کو طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد آپ اپنے پہلے شوہر سے نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (البقرۃ، رقم الآیۃ:230)*
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَO

*فتاویٰ الھندیۃ: (356/1، ط: دار الفکر)*
مَتَى كَرَّرَ لَفْظَ الطَّلَاقِ بِحَرْفِ الْوَاوِ أَوْ بِغَيْرِ حَرْفِ الْوَاوِ يَتَعَدَّدُ الطَّلَاقُ وَإِنْ عَنَى بِالثَّانِي الْأَوَّلَ لَمْ يُصَدَّقْ فِي الْقَضَاءِ كَقَوْلِهِ يَا مُطَلَّقَةٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَوْ طَلَّقْتُك أَنْتِ طَالِقٌ وَلَوْ ذَكَرَ الثَّانِيَ بِحَرْفِ التَّفْسِيرِ وَهُوَ حَرْفُ الْفَاءِ لَا تَقَعُ أُخْرَى إلَّا بِالنِّيَّةِ كَقَوْلِهِ طَلَّقْتُك فَأَنْتِ طَالِقٌ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.

*الدر المختار: (232/3، ط: دار الفکر)*
(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو *واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة)* لو قال: والبدعي ما خالفهما لكان أوجز وأفيد (وتجب رجعتها) على الأصح (فيه) أي في الحيض رفعاً للمعصية۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce