resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دارالافتاء کی فیس میں مفتی صاحب کے لیے متناسب حصہ مقرر کرنے کا حکم

(42150-No)

سوال: میں ایک مدرسہ عربیہ میں مدرس ہونے كے ساتھ دار الافتاء میں بھى خدمات سرانجام دیتا ہوں، مشاہرہ كے سلسلہ میں حضرت مدیر صاحب كے سامنے دو صورت پیش كیں: ”اگر بہتر سمجھیں تو یا تو میری باقاعدہ تنخواہ جاری فرمائی جائے یا دارالافتاء میں آنے والے وہ مستفتی جن کا فتویٰ میں حل کرتا ہوں، ان کی طرف سے فتویٰ کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم/فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے مقرر فرما دی جائے، تاکہ میں اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں“۔ بعد ازاں دوسرى صورت (فتویٰ کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم/فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے) مقرر كر دى گئى۔
پوچھنا یہ ہے كہ كیا مذكورہ صورت شرعاً جائز ہے؟

جواب: سب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ افتاء، تدریس اور دیگر دینی طاعات پر اجرت لینا فقہائے احناف کے نزدیک اصل کے اعتبار سے اجرت علی الطاعات میں داخل ہے، جو ابتداءً جائز نہیں تھی، البتہ متأخرین فقہائے احناف نے دینی مصالح کے تحفظ اور اہلِ علم کی ضرورت کے پیشِ نظر اس بات کی اجازت دی ہے کہ نفسِ عبادت یا طاعت پر نہیں، بلکہ اس کے لیے صرف ہونے والے وقت، محنت اور تفرغ کے عوض اجرت مقرر کی جائے۔
اسی بنا پر ہر ہر فتویٰ پر الگ اجرت یا فیس مقرر کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے متعدد مفاسد پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، نیز دارالافتاء کے معمول اور عرف میں بھی ہر فتویٰ کے عوض الگ فیس مقرر کرنے کا رواج نہیں ہے، لہٰذا اگر دارالافتاء میں انجام دی جانے والی خدمات کے لیے متعین اوقات کے عوض ماہانہ یا کسی اور مدت کے اعتبار سے ایک مقررہ (Lump Sum) مشاہرہ طے کر دیا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہوگی، البتہ اس مشاہرے کو فتاویٰ کی تعداد یا مستفتیان سے وصول ہونے والی فیس کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ پہلے ہی مدرسہ کے ملازم ہیں اور مدرسہ کے ساتھ آپ کا عقدِ اجارہ پہلے سے موجود ہے، مثلاً صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک آپ کی خدمات اسی عقد کے تحت مدرسہ کے لیے مقرر ہیں تو انہی اوقات میں دارالافتاء کی خدمات کے لیے اسی ادارے کے ساتھ ایک مستقل دوسرا عقدِ اجارہ کرنا درست نہیں، کیونکہ ایک ہی وقت کو دو مستقل اجارہ کے عقود کا محل بنانا شرعاً جائز نہیں۔
البتہ اگر دارالافتاء کی خدمات کے لیے پہلے سے کوئی مستقل عقد موجود نہ ہو، یا تدریس اور افتاء کے اوقات الگ الگ ہوں، اس طرح کہ ہر عقد کا محلِ منفعت اور وقت مستقل ہو تو ایسی صورت میں دونوں خدمات کے لیے الگ الگ اجرت مقرر کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مستفتیان سے وصول ہونے والی فیس یا اس کے متعین تناسب کو بطورِ معاوضہ مقرر کرنے کے بجائے دارالافتاء میں انجام دی جانے والی خدمات اور ان کے لیے مختص وقت کے عوض ایک مناسب مقررہ مشاہرہ طے کرنا چاہیے، اور اگر تدریس و افتاء کے لیے الگ الگ اوقات مقرر ہوں اور وہ معاہدہ الگ وقت کے لیے ہو تو دار الافتاء کے لیے الگ وقت پر معاہدہ کرکے اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اجرت لینا درست ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (92/6، ط: دار الفکر)
(يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى؛ لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذا الكف أولى احترازا عن القيل والقال وصيانة لماء الوجه عن الابتذال بزازية، وتمامه في قضاء الوهبانية

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment