resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جادو، جنّات یا نفسیاتی دباؤ کے زیرِ اثر دی گئی طلاق کے وقوع اور عدمِ وقوع کی شرعی وضاحت

(42156-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک انتہائی حساس اور نہایت نازک معاملے کے بارے میں آپ سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا کوئی حل یا گنجائش بیان فرمائیں گے۔
میرے شوہر نے شدید غصے کی حالت میں تین طلاقیں اسٹامپ پیپر پر لکھ کر واٹس ایپ کے ذریعے میری فیملی کو دکھائی ہیں۔ اس واقعے سے کچھ دن پہلے ہی ان کے رویّے میں غیر معمولی تبدیلی آگئی تھی۔ ہم نے استخارہ کروایا تو بتایا گیا کہ ان پر جنات یا کسی عمل (جادو وغیرہ) کا اثر ہے۔ گھر میں جب سورۂ رحمٰن اور سورۂ واقعہ لگائی جاتی تھیں تو وہ اٹھ کر بند کر دیتے تھے اور ان کا غصہ اس قدر شدید ہو جاتا تھا کہ نہ مجھ سے، نہ بچوں سے اور نہ ہی اپنی والدہ سے بات کرتے تھے۔
اسی دوران انہوں نے مجھے اور بچوں کو اپنے فلور سے نکال دیا، جس کے بعد میں تقریباً پندرہ دن اپنی ساس کے فلور پر رہی۔ اس عرصے میں وہ کسی سے بات نہیں کرتے تھے، نہ کسی کے سامنے آتے تھے، بلکہ خود کو کمرے میں بند رکھتے یا پورے فلور کو لاک کرکے تنہا رہتے تھے۔ ہم نے گھر کا حصار بھی کروایا تھا۔ بعد ازاں جب انہوں نے طلاق کے کاغذات واٹس ایپ پر میری بہن کو دکھائے تو میرے گھر والے مجھے اپنے ساتھ لے آئے۔
ہم نے اس مسئلے کے بارے میں دارالافتاء سے رابطہ کیا تو وہاں سے یہ کہا گیا کہ شوہر کو ساتھ لے کر آئیں، لیکن میرے شوہر اب بھی اسی کیفیت میں ہیں۔ وہ نہ کسی سے ملتے ہیں، نہ گفتگو کرتے ہیں، اور خود کو سب سے الگ تھلگ رکھتے ہیں، البتہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ فون پر بات کر لیں گے، لیکن ان کے شدید غصے اور غیر معمولی حالت کی وجہ سے کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ اس معاملے میں کوئی بہتر اور شرعی راستہ تجویز فرمائیں، جس سے میرا گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔ میرے شوہر بچوں کو بھی بالکل نہیں دیکھ سکتے تھے۔ البتہ کل میری ان سے بات ہوئی تو وہ صرف یہی کہتے رہے کہ "میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔" براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی اور مناسب مشورہ عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: طلاق عام طورپرغصے کی حالت ہی میں دی جاتی ہے، لہٰذا محض غصہ طلاق کے عدمِ وقوع کا سبب نہیں بنتا۔ اسی طرح تحریری صورت میں لکھی گئی طلاق بھی شرعاً معتبر ہوتی ہے، بشرطیکہ لکھنے والا اپنے ہوش و حواس میں ہو، البتہ اگر کسی شخص کی ذہنی حالت ایسی ہو کہ اس کی عقل و شعور اس درجہ متاثر ہو چکے ہوں کہ اسے اپنے اقوال و افعال کا ادراک نہ رہے، یا وہ اپنے ارادے اور اختیار سے محروم ہو جائے تو فقہائے کرام نے ایسی حالت کو ’’مغلوب العقل‘‘ یا ’’مدہوشی‘‘ کی حالت قرار دیا ہے، اور ایسی حالت میں صادر ہونے والے اقوال و تصرّفات کے احکام عام حالات سے مختلف ہوتے ہیں۔
آپ نے شوہر کے متعلق جو علامات ذکر کی ہیں، مثلاً غیر معمولی اور شدید غصہ، گھر والوں سے مکمل لاتعلقی، اپنے آپ کو بند کر لینا، دینی تلاوت سننے پر غیر معمولی ردِّ عمل ظاہر کرنا اور دیگر غیر متوازن رویے، ان کیفیات سے بظاہر کسی شدید نفسیاتی عارضے یا غیر معمولی ذہنی کیفیت کا احتمال ضرور پیدا ہوتا ہے، لیکن صرف ان علامات کی بنیاد پر طلاق کے عدمِ وقوع کا قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس معاملے میں حتمی شرعی حکم کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ طلاق نامے پر دستخط کرتے وقت شوہر کی ذہنی کیفیت کیا تھی:
اگر مستند میڈیکل رپورٹ یا ماہر دیانت دار نفسیاتی ڈاکٹر کی براہِ راست تحقیق سے یہ ثابت ہو جائے کہ دستخط کے وقت وہ اس درجہ مغلوب العقل تھے کہ انہیں اپنے الفاظ، تحریر اور اس کے نتائج کا شعور نہ تھا تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اور اگر وہ اپنے فعل اور تحریر کے مفہوم کو سمجھتے تھے، اگرچہ شدید غصے، نفسیاتی دباؤ یا دیگر مشکلات میں مبتلا تھے تو اصولی طور پر لکھی گئی طلاق واقع ہو جائے گی۔
چونکہ مذکورہ مسئلے کا تعلق شوہر کی اس وقت کی ذہنی کیفیت سے ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شوہرکو میڈیکل رپورٹ پر یا براہِ راست ماہردیانت دارنفسیاتی ڈاکٹر سےابطہ کرنے پر آمادہ کیا جائےاور ان کی رائے لی جائے،اگر وہ بالمشافہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے تیار نہ ہو، جیسے کہ بعض مریضوں کی کیفیت ہوتی ہے توفون پرمتعلقہ ڈاکٹر سے گفتگو کے لیے اسے آمادہ جائے، اور پھر وہ رپورٹ کسی مستند دارالافتاء میں جمع کراکر فتوی حاصل کیاجائے تاکہ صحیح شرعی فیصلہ کیا جا سکے۔
نیز یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ طلاق نامہ کس نے تیار کیا، اس کی عبارت کس نے لکھی، اور دستخط کے وقت شوہر اس تحریر کے مندرجات کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں؛ کیونکہ یہ تمام امور حتمی فیصلے میں مؤثّر ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ صرف جادو، جنات یا نفسیاتی دباؤ کے دعویٰ سے طلاق خود بخود کالعدم قرار نہیں دی جا سکتی، بلکہ یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ طلاق لکھتے وقت شوہر واقعی اس درجہ مغلوب العقل تھے کہ اپنے قول و فعل کا شعور نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے حتمی فتویٰ جاری کرنے سے قبل شوہرکی ڈاکٹری پورٹ حاصل کیا جانا تحقیق کے لیے ناگزیر ہے، جب تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہ ہو جائے، حتمی فتوی جاری نہیں کیا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244 دار الفكر-بيروت)
" قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اه ملخصاً من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اه وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش".

*زادالمعاد:( 5: 215، موسسة الرسالة، مکتبةالمنار، بيروت)*
مايزيل العقل فلايشعر صاحبه بماقال وهذا لايقع طلاقه بلانزاع.
مايکون فی مبادية بحيث لايمنع صاحبه من تصور مايقول و قصده فهذا يقع طلاقه.
ان يستحکم ويشتدبه فلايزيل عقله بالکلية و لکن يحول بينه و بين نيته بحيث يندم علی مافرط منه اذا زال فهذا محل نظر و عدم الوقوع فی هذه الحالة قوي متجه.

*البحر الرائق لابن نجيم الحنفي: (3: 268، دارالمعرفة، بيروت)*
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش و نحوه اناطة الحکم بغلبة الخلل في اقواله وافعاله الخارجة عن عادته، وکذا يقال فيمن اختلّ عقله لکبر اولمريض اولمصيبة فاجاته فما دام في حال غلبة الخلل في الاقوال والافعال لاتعتبر اقواله و ان کان يعلمها و يريدها لان هذه المعرفة و الارادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراک صحيح کما لاتعتبر من الصبي العاقل.

*الفقه على المذاهب الأربعة: (4/ 262 دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)*
والتحقيق عند الحنفية ان الغضبان الذي يخرجه غضبه عن طبيعته و عادته بحيث يغلب الهذيان علی اقواله وافعاله فان طلاقه لايقع، وان کان يعلم مايقول و يقصده لانه يکون في حالة يتغير فيها ادراکه، فلايکون قصده مبنيا علی ادراک صحيح، فيکون کالمجنون، لان المجنون لايلزم ان يکون دائمافي حالة لايعلم معها ما يقول: فقديتکلم في کثير من الاحيان بکلام معقول، ثم لم يلبث ان يهذی.

*سنن الترمذي ت بشار (2/ 487)*
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل طلاق جائز، إلا طلاق المعتوه المغلوب على عقله.
والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم: أن طلاق المعتوه المغلوب على عقله لا يجوز إلا أن يكون معتوها يفيق الأحيان فيطلق في حال إفاقته.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce