سوال:
میرا ایک دوست ہے جو کپڑوں کو رنگنے کا کام کرتا ہے، اس کے پاس کپڑا رنگنے کے لیے آتا ہے، وہ کپڑے کو رنگ کر اپنے کسٹمر کودے دیتا ہے، کسٹمراسے تین چار مہینے بعد پیسے دیتا ہے، اب میرے دوست کو پیسوں کی ضرورت ہے، میرے دوست نے میرے سامنے ایک تجویز رکھی ہے۔ وہ یہ کہ اس کے پاس کپڑے کو رنگنے کا ایک کنٹریکٹ ہے، وہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے اس کنٹریکٹ کے لیے اجارہ کا عقد کرلو اور مجھے ڈسکاونٹ ریٹ پہ پیشگی پیسے دے دو، پھر میں تمہارا وکیل بن کر یہ سروس اپنے کسٹمر کو دوں گا، اور پھر جب مجھے اپنے کسٹمر سے چار مہینے بعد پیسے ملیں گے، وہ پیسے میں تمہیں لا کے دے دوں گا، یعنی میں اپنے دوست کے ساتھ اجارۃ الاشخاص کا عقد کرکے اسے اس خاص کنٹریکٹ کے لیے اجرت پہ لے لوں گا، اگر وہ کپڑا پانچ لاکھ روپے کا رنگ کرکے دے گا تو میں اسے چار لاکھ روپے پیشگی دے کر اجارہ پہ لے لوں اور اسے اپنا وکیل بنا کر یہ کہوں گا کہ اب یہ سروس میرے وکیل بن کر آگے کسٹمر کو فراہم کرو اور جب اس کے پاس سے سروس دینے کے بعد پیمنٹ آئے تو وہ پیسے لا کے مجھے دے دو۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میرا اپنے دوست کے ساتھ اس طرح کا عقد کرنا اور نفع کمانا شرعا جائز ہے؟ قرا ن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون ومشکور فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر کپڑے رنگنے کا معاہدہ پہلے ہی آپ کے دوست اور کسٹمر کے درمیان منعقد ہو چکا ہو تو اس کے بعد اسی معاہدہ کو بنیاد بنا کر (اجارۃ الاشخاص کا عقد کرنا) پیشگی کم رقم مثلاً: چار لاکھ روپے ادا کرنا اور بعد میں اسی معاہدہ سے وصول ہونے والی زیادہ رقم مثلاً پانچ لاکھ روپے وصول کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ اس معاہدہ کے حقوق و ذمہ داریاں اور اجرت کا استحقاق پہلے ہی آپ کے دوست کے لیے ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا بعد میں اجارہ کا عقد در حقیقت ایک قائم شدہ مالی حق کے عوض پیشگی رقم فراہم کرکے زائد رقم حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اجارہ اپنے حقیقی مقصد کے بجائے محض سرمایہ کاری (Financing) کا حیلہ بن جاتا ہے، جو شرعاً درست نہیں ہے۔
مذکورہ صورت میں جائز متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ اجارۃ الاشخاص کے بجائے مضاربت کا معاملہ کیا جائے، اس طور پر کہ آپ اس مخصوص رنگائی کے کنٹریکٹ میں بطورِ رب المال سرمایہ ( 4 لاکھ ) فراہم کریں اور آپ کا دوست بطورِ مضارب اپنی محنت، مہارت اور انتظام کے ذریعے رنگائی کا کام مکمل کرے۔ جب کسٹمر سے اس کنٹریکٹ کی رقم وصول ہو جائے تو پہلے اصل سرمایہ( 4 لاکھ )واپس کیا جائے، پھر اسی کنٹریکٹ سے حاصل ہونے والا حقیقی نفع پہلے سے طے شدہ تناسب ( مثلاً %50, %50 یا %60 ,%40) کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ اگر مضارب کی تعدی یا کوتاہی کے بغیر اس کنٹریکٹ میں حقیقی نقصان ہو تو وہ سرمایہ پر ہوگا، جبکہ مضارب کی محنت ضائع ہوگی۔ اس طرح اگر معاملہ کر لیا جائے تو یہ شرعاً درست ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مختصر القدوری: (113/1، ط: دار الکتب العلمیة)
المضاربة: عقد على الشركة بمال من أحد الشريكين وعمل من الآخر ولا تصح المضاربة إلا بالمال الذي بيننا أن الشركة تصح به ومن شرطها: أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما منه دراهم مسماة ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا بد لرب المال فيه فإذا صحت المضاربة مطلقة جاز للمضارب أن يشتري ويبيع ويسافر ويبضع ويوكل وليس له أن يدفع المال مضاربة إلا أن يأذن له رب المال في ذلك
وإن خص له رب المال التصرف في بلد بعينه أو في سلعة بعينها لم يجز له أن يتجاوز ذلك
وكذلك إن وقت للمضاربة مدة بعينها جاز وبطل العقد بمضيها۔۔۔وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب فيه
الدر المختار: (648/5، ط: دار الفكر)
"(وشرطها ) أمور سبعة…( وكون الربح بينهما شائعا ) فلو عين قدرا فسدت ( وكون نصيب كل منهما معلوما ) عند العقد ومن شروطها كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة"
درر الحكام: (461/3، ط: دار الجیل)
"وكل شرط لا يؤدي إلى جهالة الربح فهو باطل والمضاربة صحيحة كشرط الضرر والخسار على المضارب أو كشرطه على المضارب وعلى رب المال"
"ولكن إذا ذكرت الشركة على الإطلاق بأن قيل مثلا الربح مشترك بيننا يصرف إلى المساواة ولا يقال في هذه الصورة إن المضاربة فاسدة لجهالة الربح ؛ لأن لفظ (بين ) يدل على التنصيف والتشريك (الولوالجية )"
مجلة الأحكام العدلية: (المادة: 1411، ص: 272، ط: نور محمد)
يشترط في المضاربة أن يكون رأس المال معلوما كشركة العقد أيضا وتعيين حصة العاقدين من الربح جزءا شائعا كالنصف والثلث ولكن إذا ذكرت الشركة على الإطلاق بأن قيل مثلا الربح مشترك بيننا " يصرف إلى المساواة۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی