resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدین کا شوہر سے خلع لینے کے لیے دباؤ ڈالنا

(42161-No)

سوال: السلام علیکم! میری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں اور میری ایک 16 ماہ کی بیٹی ہے۔ میرے شوہر منشیات کے عادی ہیں اور یہ عادت ہماری شادی سے کافی پہلے سے موجود تھی، لیکن یہ بات مجھ سے چھپائی گئی تھی۔
شادی کے آغاز ہی سے انہوں نے مجھے ذہنی اذیت دی اور کئی مرتبہ میرے والدین کی بے عزتی بھی کی، وقت کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے گئے اور ان میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے، جن میں شیزوفرینیا (Schizophrenia) جیسی علامات بھی شامل ہیں، انہیں دو مرتبہ بحالیِ صحت (Rehabilitation) کے مرکز میں داخل کرکے علاج کروایا گیا، لیکن خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
وہ مجھ پر زنا جیسے سنگین اور جھوٹے الزامات بھی لگا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ازدواجی تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ میرے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ رشتہ ختم کر دیا جائے اور خلع یا طلاق کے کاغذات بھجوائے جائیں، اس معاملے کو دو ماہ گزر چکے ہیں، اب میرے شوہر دوبارہ صلح اور اکٹھے رہنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، ان کے پاس کوئی ملازمت نہیں ہے، بلکہ ان پر کافی قرض بھی ہے۔ الحمد للہ! میں ملازمت کرتی ہوں اور میری آمدنی میرے اور میری بیٹی کے اخراجات کے لیے کافی ہے۔
ایک طرف میں جذباتی طور پر اپنے شوہر سے وابستگی محسوس کرتی ہوں، لیکن دوسری طرف اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں خوف اور تشویش بھی ہے۔ میرے والدین کا کہنا ہے کہ اگر میں دوبارہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہوں تو وہ مجھ سے تعلق ختم کر دیں گے، اب میں شدید تذبذب کا شکار ہوں اور کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا اور میرے دین و دنیا کے لیے بہتر راستہ کون سا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب:
واضح رہے کہ انسان کے حالات ہمیشہ سے ایک جیسے نہیں رہتے کبھی انسان پر اچھے حالات آتے ہیں اور کبھی مشکلات اور بیماریوں کا دور ہوتا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق مریض اور کمزور شخص کی مدد کرنا اور اس کی بہتری اور اصلاح کی کوشش کرنا نہایت ثواب کا کام ہے، پھر اگر انسان کا اس محتاج شخص کے ساتھ خونی یا ازدواجی رشتہ ہو تو اس پر دوہرے ثواب کی امید رکھنی چاہئے، ایک اچھے انسان کی خوبی یہی ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کرتا اور اپنی ذات سے جتنا ہوسکے اس کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اپنے شوہر کی مدد کرتے ہوئے اس کا علاج و معالجہ کرواتی ہیں، اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے ہرممکن اقدامات کرتی ہیں، اور اس کی طرف سے ملنے والی تکالیف اور مشقتوں پر صبر کرتی ہیں تو آپ کے اس عمل پر بہت اجر ملے گا اور عند اللہ آپ کا مقام بلند ہوگا، اور ان شاءاللہ تعالیٰ جلد ہی آپ کے شوہر کے حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ جہاں تک والدین کی طرف سے دباؤ کا سوال ہے تو والدین آپ پر دباؤ ڈال کر آپ کو خلع لینے پر مجبور نہیں کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحيح ابن حبان: (رقم الحدیث: 2908، ط: مؤسسة الرسالة)*
أخبرنا أحمد بن علي بن المثنى، قال: حدثنا محمد بن العلاء بن كريب، قال: حدثنا يونس بن بكير، قال: حدثنا يحيى بن أيوب هو البجلي، قال: حدثنا أبو زرعة، قال: حدثنا أبو هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الرجل لتكون له عند الله المنزلة، فما يبلغها بعمل، فلا يزال الله يبتليه بما يكره حتى يبلغه إياها».

*الدر المختار: (501/1، ط: دارالفکر)*
ولا یتخیر أحدهما أی الزوجین بعیب الآخر فاحشاً کجنون وجذام وبرص ورتق وقرن۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce