resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: گیم بوسٹنگ سروسز (Game Boosting Services) دینا اور اس کی آمدنی کا شرعی حکم

(43162-No)

سوال: "السلام علیکم! مفتی صاحب، میں مختلف موبائل گیمز کے لیے 'گیمنگ بوسٹنگ' (Gaming Boosting) کی خدمات فراہم کرتا ہوں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ میں دوسرے کھلاڑیوں سے پیسے لے کر ان کے گیم اکاؤنٹ پر خود کھیلتا ہوں اور اپنی مہارت اور وقت استعمال کر کے ان کا 'رینک' یا درجہ بڑھا دیتا ہوں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان گیمز کی 'شرائطِ خدمت' (Terms of Service) میں اکاؤنٹ کسی دوسرے کو دینے، ایسی خدمات فروخت کرنے یا خریدنے کی واضح ممانعت ہے۔ جب میں نے یہ گیمز ڈاؤن لوڈ کیے تھے، تو میں نے ان شرائط سے اتفاق (Agree) کیا تھا، لیکن اب یہ سروس فراہم کر کے میں تکنیکی طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق یہ عمل (بوسٹنگ کرنا اور کروانا) دونوں ہی ممنوع ہیں۔ میں نے اپنی سروس کی تفصیلات میں واضح طور پر یہ لکھ رکھا ہے کہ یہ عمل گیم کے قوانین کے خلاف ہے اور اس سے گاہک کا اکاؤنٹ بند ہو سکتا ہے، اور گاہک اس کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہے۔ میری نظر میں یہ کام حلال ہونا چاہیے کیونکہ یہ باہمی رضامندی سے محنت اور وقت کی اجرت ہے، لیکن چونکہ کمپنی کا معاہدہ بیچنے اور خریدنے دونوں سے منع کرتا ہے، اس لیے میں اپنی آمدنی کے شرعی حکم کے بارے میں پریشان ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی خدمات فروخت کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعی لحاظ سے حلال ہے یا حرام؟"

جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ گیمز کی شرائطِ خدمت (Terms of Service) میں اس بات کی ممانعت موجود ہے کہ کوئی شخص اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے کو دے یا کوئی دوسرا شخص اس کے اکاؤنٹ پر کھیل کر اس کا رینک بڑھائے، لہٰذا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ سے کھیل کر اس کا رینک بڑھانا اس معاہدے کی خلاف ورزی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔
نیز کسی کے اکاؤنٹ سے گیم کھیل کر اس کا رینک بڑھانا کوئی ایسا کام (منفعتِ مقصودہ) نہیں ہے جس پر شرعاً اجرت لی جا سکے۔ مزید یہ کہ اس طرح کے گیمز کھیلنا لہو و لعب میں شامل ہے اور اس میں عموماً وقت کا ضیاع، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی، موسیقی، نامحرم خواتین کی تصاویر یا دیگر غیر شرعی امور بھی پائے جاتے ہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں گیم بوسٹنگ سروسز فراہم کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی لینا شرعاً جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*قال اللہ تعالیٰ (سورۃ المائدۃ: 1)*
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ

*شعب الإيمان (4/ 75 -ط: دار الكتب العلمية، بيروت):*
عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم».

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 192-ط: دار الكتب العلمية):*
‌ومنها ‌أن ‌تكون ‌المنفعة ‌مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس.

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 189-ط: دار الكتب العلمية):*
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانا لقطع عضو جاز.

*حاشية ابن عابدين (6/ 4-ط: دار الكتب العلمية):*
(‌قوله ‌مقصود ‌من ‌العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment