سوال:
مفتی صاحب! اس روایت کا حکم بیان فرمادیں: «من حج إلى مكة ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان» "جو شخص مکہ مکرمہ میں حج ادا کرنے کے بعد میری مسجد (مسجد نبوی ﷺ) میں میری زیارت کے لیے آئے، اس کے لیے دو مقبول حجوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔"
جواب: سوال میں ذکر کردہ روایت پر متعدٗد محدّثینِ عظام رحمہم اللہ نے کلام کیا ہے، چنانچہ حافظ بن عبدالہادی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو "من گھڑت"، جبکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے "باطل " قرار دیا ہے، اسی بات پر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اعتماد کیا ہے۔ اس کے علاوہ سند کی روایت میں موجود متعدد راویوں پر کلام کیا گیا ہے، لہذا مذکورہ روایت کو نبیﷺ کی جانب منسوب کرکے مذکورہ فضیلت آگے نقل کرنا درست نہیں۔
*نوٹ:* واضح رہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اس بات پر تصریح فرمائی ہے کہ حج کی تکمیل و سعادت حاصل کرنے کے بعد مستحب یہ ہے کہ زیارتِ مدینہ منورہ کو جایا جائے، اور روضہ اقدس ﷺ پر حاضر ہوکر صلاة وسلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرے۔ ظاہر بات ہے کہ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ وہ روضہ اقدس پر سلام عرض کرے اور خود پیغمبر ﷺ اس کے سلام کا جواب مرحمت فرمائیں۔ اسی لئے علماءِ اہلِ سنّت والجماعت نے روضہ اقدس کی زیارت کو اہم ترین مقاصد میں شمار فرمایا ہے اور روضہ اقدس کی حاضری کو گناہوں سے معافی اور درجات کی بلندی کا سبب قرار دیا ہے۔ (منا سک الملا علی قاری، 502)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*الصارم المنكي في الردِّ على السُّبْكي، لشمس الدين محمد بن أحمد بن عبد الهادي الحنبلي (ت 744ه)، («الباب الأول: في الأحاديث الواردة في الزيارة نصا»، رقم الصفحة: 57، تحقيق: عقيل بن محمد بن زيد المقطري اليماني، قدم له: فضيلة الشيخ مقبل بن هادي الوادعي رحمه الله، الناشر: مؤسسة الريان، بيروت – لبنان):*
«فالجواب: أن هذا الخبر ليس فيه ذكر زيارة القبر، ولا قوله: من جاءني زائرا لا تعمله حاجة إلا زيارتي، مع أن خبر موضوع، وحديث مصنوع، لا يحسن الاحتجاج به، ولا يجوز الاعتماد على مثله، وفي إسناده ممن لا يحتج بحديثه، ولا يعتمد على روايته غير واحد من الرواة، منهم: أسيد بن زيد الجمال الكوفي»
*ميزان الاعتدال في نقد الرجال، لشمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (ت 748 ه)، (حرف العین، ترجمة عیسی بن بشیر، 310/3، تحقيق: علي محمد البجاوي [ت 1399 ه]، الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت – لبنان):*
"عيسى بن بشير": لا يدري من ذا؟ وأتى بخبر باطل، فقال إسحاق ابن سيار النصيبى: حدثنا أسيد بن زيد الجمال، حدثنا عيسى بن بشير، عن محمد بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس - يرفعه: "من حج ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان".
تفرد به أسيد، وهو ضعيف ولا يحتمله.»
*حاشية إرشاد الساري إلی مناسک الملا علی القاری، باب زیارة سيد المرسلین، رقم الصفحة: 708، تحقیق وتقدیم: محمد طلحة أحمد منیار، المکتبة الإمدادیة)*
*متن الکتاب "مناسک الملاعلي القاري":*
"ثم إن کان الحج فرضا فیبدأ بالحج ثم بالزیارة إن لم يمر بالمدينة في طریقه، وإن مرّ بها بدأ بالزیارة لامحالة. وإن کان الحج نفلا فهو بالخیار بین البداءة بالمختار، بالآصال والأبكار وبین أن یحج أولا لیطهّر من الأوزار، فیزور الطاهر طاهرا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی