سوال:
مفتی صاحب ! کون سے جانور یا پرندے گھر میں رکھنے کو احادیث میں خیر و برکت کا سبب بتایا گیا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ احادیث میں مختلف ایسے جانوروں اور پرندوں کا ذکر آتا ہے، جن کو حضور اقدس ﷺ نے پسند فرمایا ہے، اور ان کی تمام ضروریات کا بروقت خیال کرتے ہوئے ان کو گھر میں رکھنے، پالنے اور ان کے دیکھ بھال کرنے کو خیر وبرکت کا ذریعہ بتایا ہے، جن میں اونٹ، بکری، مرغا اور جہاد کی نیت سے پالا گیا گھوڑا شامل ہے، ذیل میں چند روایات ذکر کی جاتی ہیں:
*اونٹ، بکری اور گھوڑے کے بارے میں روایت* : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اونٹ اپنے مالکوں کے لئے باعث عزت اور بکری باعث برکت ہے، اور خیر و بھلائی کو قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔" (سنن ابن ماجه، حديث نمبر: 2305)
*بکری سے متعلق روایت:* حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: بکریاں پالا کرو، اس لئے کہ یقیناً ان میں برکت ہے۔ (مسند أحمد بن حنبل،حديث: 27381)
*مرغے کے بارے میں روایت* : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مرغےکو برا بھلا مت کہو، کیونکہ وہ نماز کے لئے جگاتا ہے" (مسند أحمد بن حنبل، حديث نمبر: 21679)
*گھوڑے سے متعلق روایت:* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خیر وبھلائی کو قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔" (صحیح بخاری، حديث نمبر: 2867)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیروبرکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔ (صحیح بخاری، حديث نمبر: 2868)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*سنن ابن ماجه: (كتاب التجارات، باب اتخاذ الماشية، ص: 3/402، رقم الحديث: 2305، ن: دار الرسالة العالمية)*
"عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: "الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا، وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ، وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ."
*مسند أحمد بن حنبل: (مسند القبائل، من حديث أم هانئ بنت أبي طالب، ص: 45/379، رقم الحديث: 27381، ن: مؤسسة الرسالة، ط: الأولى، 1421 ه - 2001 م)*
"عن أم هانئ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتخذوا الغنم، فإن فيها بركة». "
*مسند أحمد بن حنبل، (مسند الأنصار، حديث زيد بن خالد الجهني، ص: 36/13، رقم الحديث: 21679، ن: مؤسسة الرسالة، ط: الأولى، 1421 ه - 2001 م)*
"وعن زيد بن خالد الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تسبُّوا الديكَ، فإنه يدعو إلى الصلاة »."
*صحيح البخاري، (باب فضل الجهاد والسير، باب: الخيل معقودٌ في نواصيها الخيرُ إلى يوم القيامة، ص: 595، رقم الحديث: 2867، ن: دار التأصيل، ط: الأولى، 1439ﻫ)*
"عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الخَيْرُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ".
*صحيح البخاري، (باب فضل الجهاد والسير، باب: الخيل معقودٌ في نواصيها الخيرُ إلى يوم القيامة، ص: 595، رقم الحديث: 2868، ن: دار التأصيل، ط: الأولى، 1439ﻫ)*
"وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «البركةُ في نواصي الخيل»."
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی