سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! عرض ہے کہ اگر ایک شخص پہلے ایسی ملازمت یا ذریعۂ آمدن سے وابستہ تھا جس میں آمدن مشتبہ یا غیر یقینی تھی، مثلاً بینک کی ملازمت یا فلم/سنگنگ وغیرہ سے کمائی۔ بعد میں اس نے وہ کام مکمل طور پر چھوڑ دیا، اب اس کے پاس نہ کوئی مستقل حلال ذریعۂ آمدن ہے اور نہ ہی فوری روزگار کا کوئی انتظام۔
اس شخص نے اپنی سابقہ جمع شدہ رقم (جس میں مشتبہ/حرام آمدن شامل تھی) اور ساتھ اپنی حلال رقم (مثلاً وراثت وغیرہ) کو ملا کر ایک جائز اور حلال کاروبار میں سرمایہ کاری کر دی ہے، لیکن حلال حرام سرمایہ کی تعداد کا اسے کوئی حساب نہیں ہے اور اب وہ کاروبار مکمل طور پر شریعت کے اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس شخص کی موجودہ کاروباری آمدن کس حد تک حلال شمار ہوگی جبکہ ابتدائی سرمایہ میں حرام یا مشتبہ مال کی آمیزش موجود تھی؟ کیا ایسی آمیزش کے باوجود موجودہ کاروبار کی آمدن جائز ہو سکتی ہے اگر کاروبار بذاتِ خود حلال ہو؟ اور کیا اس پر لازم ہے کہ وہ سابقہ حرام/مشتبہ مال کو الگ کر کے صدقہ کرے یا اس کی کوئی اور شرعی صورت ہو سکتی ہے؟ بینک کی نوکری اور فنکاری کو الگ الگ رکھ کر جواب دیجیے گا۔ جزاک اللہ خیرا
جواب: (1,2,3) واضح رہے کہ سودی معاملات یا دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ رقم کو وراثت یا دیگر حلال ذرائع سے حاصل شدہ رقم کے ساتھ ملا کر کاروبار میں لگانا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا حرام رقم کو حلال کاروبار میں شامل کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو تو وہ رقم اسے یا اس کے ورثاء کو واپس کرنا لازم ہے، اور اگر مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو اتنی رقم بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔
البتہ اگر کسی شخص نے لاعلمی یا نادانی میں حرام اور حلال رقم کو ملا کر کاروبار شروع کر لیا تو محض اس بنیاد پر جائز کاروبار سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی کو حرام قرار نہیں دیا جائے گا، البتہ جب تک حرام سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اس کے بقدر شرعی مصرف (مالک یا فقراء ) میں خرچ نہ کر دیا جائے، اس میں کراہت رہی گی۔
(4) اس سلسلے میں سود کے ذریعے حاصل شدہ رقم یا دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ رقم کا حکم ایک ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*فقه البيوع علی المذاهب الأربعة: (1006/2، ط: مکتبه معارف القرآن)*
وإنّه حرامٌ للغاصب الانتفاعُ به أو التّصرّفُ فيه، فيجبُ عليه أن يرُدّه إلى مالكه، أوإلى وارثه بعد وفاتِه، وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفةِ المالك أو وارثه، أولتعذّر الرّدّ عليه لسببٍ من الأسباب،وجب عليه التّخلّصُ منه بتصدّقه عنه من غير نيّةِ ثوابِ الصّدقةِ لنفسه.
*رد المحتار: (385/6، ط: دار الفکر)*
سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
*رد المحتار: (مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری علی خمسۃ أوجہ، 235/2، ط: سعید)*
رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔
*بدائع الصنائع، کتاب الاجارہ، جلد 4، صفحہ 189، دار الکتب العلمیہ، بیروت*
الاستئجار علی المعاصی أنہ لایصح۔۔۔ کاستئجار المغنیۃ و النائحۃ۔
والله تعالىٰ أعلم بالصواب
دارالافتاء الإخلاص،کراچی