resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدین کی ناراضگی کے باوجود پسند کی جگہ نکاح کرنے کا شرعی حکم

(45169-No)

سوال: میں ایک سنجیدہ شرعی مسئلے پر رہنمائی چاہتا ہوں۔ میری ماموں کی بیٹی سے باقاعدہ منگنی ہوئی تھی جو تقریباً چار سال رہی، دونوں گھرانے ابتدا میں راضی تھے، مگر بعد میں گھریلو عورتوں کے جھگڑوں کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں آنا جانا بند ہو گیا اور باتیں بڑھ گئیں، اس دوران میرے گھر والوں نے غصے میں آ کر رشتہ ختم کرنے کا دباؤ ڈالا، حالانکہ میرا اور میری منگیتر کا کوئی قصور نہیں تھا، معاملہ اتنا بڑھا کہ دونوں طرف سخت کلامی ہوئی اور “جینا مرنا ختم” تک بات چلی گئی۔
میں اس لڑکی سے سات سال سے محبت کرتا ہوں، اس کے گھر والے آج بھی راضی ہیں، مگر میرے والدین، خاص طور پر والدہ، شدید ناراض ہیں۔ والدہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر وہاں شادی کی تو وہ مجھ سے قطع تعلق کر لیں گی اور میری شکل تک نہیں دیکھیں گی، بلکہ بددعا بھی دیتی ہیں۔
میرے والد صاحب سعودی عرب میں مقیم ہیں، ابتدا میں وہ مان گئے تھے، مگر بعد میں گھر والوں کی بات سن کر وہ بھی مخالف ہو گئے۔ میں تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جا رہا ہوں اور لڑکی کے گھر والے انتظار کرنے کو تیار ہیں۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
1) جب نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو تو کیا والدین کی اس ناراضگی میں ماننا لازم ہے؟
2) والدہ کی بددعا اور قطع تعلق کی دھمکی کے باوجود میرے لیے شرعی طور پر درست راستہ کیا ہے؟
3) مزید یہ کہ اگر ممکن ہو تو میرے والدین کے لیے بھی کوئی مختصر پیغام یا نصیحت فرما دیں، تاکہ میں آپ کا کلپ/ریکارڈنگ انہیں بھیج سکوں اور وہ شرعی پہلو کو سمجھ سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: آپ کے بیان کردہ واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءً دونوں خاندان اس رشتے پر راضی تھے، منگنی بھی طویل عرصے تک قائم رہی اور بعد میں جو مخالفت پیدا ہوئی وہ لڑکے اور لڑکی کے کردار، دین داری یا باہمی موافقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ خاندان کی بعض عورتوں کے باہمی اختلافات اور گھریلو تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہوئی، ایسی صورت میں مسئلے کو دو الگ زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے: ایک والدین کے حقوق اور ان کی اطاعت اور دوسرا نکاح کے انتخاب میں بالغ اولاد کا شرعی حق۔
اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب، خدمت اور ان کی دلجوئی کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ تاہم فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ والدین کی اطاعت ان امور میں واجب ہوتی ہے جن میں شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو اور جن میں ان کا مطالبہ کسی معتبر مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر والدین کسی ایسے نکاح سے محض ذاتی ناراضگی، خاندانی جھگڑوں یا غیر شرعی وجوہات کی بنا پر منع کریں جس میں شرعاً کوئی قباحت موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کی بات ماننا واجب نہیں ہوتا، اگرچہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور دلجوئی بہرحال لازم رہتی ہے۔
لہٰذا اگر واقعی اس لڑکی کے دین، اخلاق، کردار یا خاندان کے بارے میں کوئی ایسی معقول اور شرعاً معتبر وجہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر نکاح سے روکا جا رہا ہو اور مخالفت صرف سابقہ گھریلو جھگڑوں اور باہمی رنجشوں کی وجہ سے ہو تو محض اس بنیاد پر اس رشتے کو حرام یا ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا، بالغ مرد شرعاً اپنے نکاح کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔
اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں :
(1) اگر نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ موجود نہیں اور لڑکی دین دار، بااخلاق اور مناسب ہے تو صرف والدین کی ناراضگی کی وجہ سے اس رشتے کو چھوڑ دینا شرعاً لازم نہیں، البتہ نکاح سے پہلے والدین کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کرنا، بزرگوں اور خاندان کے سمجھدار افراد کو درمیان میں ڈالنا اور ہر ممکن حد تک صلح کی تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ والدین کی رضامندی زندگی میں برکت اور سکون کا بڑا سبب ہے۔
(2) والدہ کی بددعا، ناراضگی یا قطع تعلق کی دھمکی یقیناً تکلیف دہ اور باعثِ تشویش ہے، لیکن شرعی اعتبار سے والدہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جائز اور مباح امور میں اولاد کو محض ذاتی رنجش کی بنا پر ایسی دھمکیاں دیں، اگر اولاد کسی جائز اور شرعاً درست کام کا ارادہ رکھتی ہو تو محض ناراضگی یا بددعا کی دھمکی اس کام کو ناجائز نہیں بنا دیتی۔
البتہ آپ کو ہرگز یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ "چونکہ شرعاً اجازت ہے، اس لیے والدین کی کوئی پرواہ نہیں"، بلکہ آپ کا فرض ہے کہ مسلسل ادب، عاجزی، نرمی اور خدمت کا رویہ اختیار کریں، ان کے سامنے آواز بلند نہ کریں، ان کی دل آزاری سے بچیں، ان کے لیے دعا کریں اور نکاح کے بعد بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔ اگر والدہ وقتی جذبات میں آکر قطع تعلق کی بات کرتی ہیں تو آپ کو صبر اور حکمت کے ساتھ ان کے تعلق کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ والدین کی ناراضگی اور بددعا کا اندیشہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے مزید تعلق جوڑنے، استخارہ کرنے، کثرتِ دعا اور استغفار کی طرف متوجہ کرتا ہے، لہٰذا کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل خوب استخارہ کریں، اہلِ علم اور خاندان کے سنجیدہ افراد سے مشورہ کریں، اور جذبات کے بجائے مستقبل کی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔
والدین کے لیے ایک مختصر نصیحت درج ذیل ہے، جسے آپ انہیں بھیج سکتے ہیں:
محترم والدین! اولاد اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اگر کوئی بیٹا یا بیٹی کسی ایسے رشتے کی خواہش رکھتا ہو جس میں دین، اخلاق اور کردار کے اعتبار سے کوئی خرابی نہ ہو تو محض خاندانی ناراضگیوں اور وقتی جھگڑوں کی بنیاد پر اس کے جائز رشتے میں رکاوٹ بننا مناسب نہیں۔ والدین کا مقام بہت بلند ہے، لیکن شریعت نے اولاد کی جائز پسند کا بھی احترام کیا ہے۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ ماضی کے اختلافات کو بھلا کر اللہ تعالیٰ کی رضا، اولاد کی خوشی اور ایک مسلمان خاندان کے اتحاد کو مقدم رکھا جائے، اگر رشتے میں کوئی حقیقی شرعی یا اخلاقی خرابی ہو تو اسے محبت اور دلیل کے ساتھ بیان کیا جائے، لیکن اگر مسئلہ صرف باہمی رنجش کا ہو تو معافی، درگزر اور صلح کا راستہ اختیار کرنا دنیا و آخرت دونوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو انصاف، حکمت اور باہمی محبت کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خلاصۂ جواب: اگر رشتے میں کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی موجود نہیں اور مخالفت صرف خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے ہے تو اس رشتے کو چھوڑنا شرعاً لازم نہیں، لیکن والدین کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش، ان کی خدمت، ادب اور دلجوئی بہرحال واجب اور ضروری ہے۔ والدین کی ناراضگی کو کم کرنے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرتے ہوئے، استخارہ اور مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*الدر المختار مع رد المحتار: (55/3، ط: دار الفكر)*
(وهو)أي الولي(شرط)صحة(نكاح صغيرومجنون ورقيق)لامكلفة(فنفذنكاح حرة مكلفة بلا)رضا(ولي).

*االدر المختار مع رد المحتار:(58/3، سعید)*
"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت) فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد سراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن)".... وفی الرد:(قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح:فلان يخطبك أويذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها،بحر عن المحيط".

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (2/ 248 ،دار الكتب العلمية)*
{وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن} [البقرة: 232] الآية والاستدلال به من وجهين أحدهما: أنه أضاف النكاح إليهن فيدل على جواز النكاح بعبارتهن من غير شرط الولي.والثاني: أنه نهى الأولياء عن المنع عن نكاحهن أنفسهن من أزواجهن إذا تراضى الزوجان، والنهي يقتضي تصوير المنهي عنه وأما السنة: فما روي عن ابن عباس - رضي الله عنهما - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «ليس للولي مع الثيب أمر» وهذا قطع ولاية الولي عنها.وروي عنه أيضا عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «الأيم أحق بنفسها من وليها» والأيم اسم لامرأة لا زوج لها.وأما الاستدلال فهو: أنها لما بلغت عن عقل وحرية فقد صارت ولية نفسها في النكاح فلا تبقى موليا عليها كالصبي العاقل إذا بلغ، والجامع أن ولاية الإنكاح إنما ثبتت للأب على الصغيرة بطريق النيابة عنها شرعا لكون النكاح تصرفا نافعا متضمنا مصلحة الدين والدنيا وحاجتها إليه حالا ومآلا وكونها عاجزة عن إحراز ذلك بنفسها، وكون الأب قادرا عليه وبالبلوغ عن عقل زال العجز حقيقة وقدرت على التصرف في نفسها حقيقة فتزول ولاية الغير عنها وتثبت الولاية لها؛ لأن النيابة الشرعية إنما تثبت بطريق الضرورة نظرا فتزول بزوال الضرورة مع أن الحرية منافية لثبوت الولاية للحر على الحر، وثبوت الشيء مع المنافي لا يكون إلا بطريق الضرورة ولهذا المعنى زالت الولاية عن إنكاح الصغير العاقل إذا بلغ، وتثبت الولاية له وهذا المعنى موجود في الفرع ولهذا زالت ولاية الأب عن التصرف في مالها، وتثبت الولاية لها كذا هذا وإذا صارت ولي نفسها في النكاح لا تبقى موليا عليها بالضرورة لما فيه من الاستحالة

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah