سوال:
محرم کی پہلی سے دسویں تاریخ تک روزہ رکھنے کا کیا ثواب اور فضیلت ہے؟
جواب: واضح رہے کہ محرّم الحرام کے پورے مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنا فضیلت، اجر اور ثواب کا باعث ہے۔ تاہم خاص طور پر یومِ عاشورہ، یعنی 10 محرم الحرام کے روزے کے علاوہ بقیہ نو ایام کے روزوں کی احادیثِ مبارکہ میں کوئی خاص فضیلت بیان نہیں کی گئی ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دن کو دوسرے دنوں پر فضیلت دیتے ہوئے اس کا روزہ رکھنے کا اس قدر اہتمام کرتے ہوں، سوائے عاشورہ کے، اور نہ ہی کسی مہینے کا، سوائے رمضان المبارک کے۔‘‘ صحیح مسلم: (حدیث نمبر: 1132)
اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا“۔ سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 752)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1132، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن عبيد الله بن ابي يزيد، سمع ابن عباس رضي الله عنهما وسئل عن صيام يوم عاشوراء؟، فقال " ما علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صام يوما، يطلب فضله على الايام إلا هذا اليوم، ولا شهرا إلا هذا الشهر "، يعني: رمضان.
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1163، ط: دار احیاء التراث العربی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: سُئِلَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ، صِيَامُ شَهْرِ اللهِ الْمُحَرَّمِ».
مرقاة المفاتيح لملا علي القاري: (467/4، ط: دار الكتب العلمية)
وَيُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ أَفْضَلِيَّتُهُ لِمَا فِيهِ مِنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ لَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْمُرَادَ جَمِيعُ شَهْرِ الْمُحَرَّمِ.
سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 752، ط: دار الغرب الاسلامی)
عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " صيام يوم عاشوراء إني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله.
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی