resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آئس (Ice) کے نشے میں دی ہوئی طلاق کا حکم

(45174-No)

سوال: قابلِ احترام مفتی صاحب! مؤدبانہ گزارش ہے کہ شوہر عرصۂ دراز سے "آئس" (منشیات) کے خطرناک نشے میں مبتلا رہا ہے۔ مذکورہ نشے کے باعث اس کی دماغی اور ذہنی حالت درست نہیں رہی اور وہ متعدد مرتبہ ذہنی عدم توازن کا شکار رہا، اس کے علاج معالجہ کے دستاویزی ثبوت اور میڈیکل ریکارڈ بھی موجود ہیں۔
نشے اور ذہنی عدم استحکام کی حالت میں شوہر نے طلاق کے الفاظ ادا کیے اور بعد ازاں اسٹامپ پیپر پر بھی تین مرتبہ طلاق تحریری طور پر درج کی۔ تاہم طلاق کے فوراً بعد اس نے رجوع کر لیا، اپنی اہلیہ اور بچوں سے ملنے گیا اور ازدواجی تعلق برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ طلاق کے وقت شوہر شدید نشے اور غیر متوازن ذہنی کیفیت میں تھا، جس کے علاج اور بیماری سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔ مزید برآں! طلاق کے فوراً بعد رجوع کرنا اور اہلِ خانہ سے تعلق برقرار رکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے افعال و اقوال اس کی معمول کی اور متوازن ذہنی حالت کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔
لہٰذا تمام دستیاب طبی ریکارڈ، علاج معالجہ کے ثبوت، اور دیگر متعلقہ شواہد کو مدِنظر رکھتے ہوئے قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا میاں بیوی کا رشتہ قائم ہے یا ختم ہو گیا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ طلاق کے وقت شوہر شدید نشے اور غیر متوازن ذہنی کیفیت میں تھا، جس کے علاج اور بیماری سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔ واضح رہے کہ نشے کی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں جب شوہر نے زبانی اور تحریر طور پر تین مرتبہ طلاق دیدی (اگرچہ یہ طلاق نشہ کی حالت میں ہو) تو یہ طلاق واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوگئی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
تاہم اگر عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور اس سے ازدواجی تعلّق بھی قائم ہوجائے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ عورت عدّت گزار کر دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*شرح النووي على مسلم: (10/ 70، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث وقال طاوس وبعض أهل الظاهر لا يقع بذلك إلا واحدة وهو رواية عن الحجاج بن أرطأة ومحمد بن إسحاق والمشهور عن الحجاج بن أرطأة أنه لا يقع به شيء وهو قول بن مقاتل ورواية عن محمد بن إسحاق»

*الدر المختار مع رد المحتار: (3/ 239، ط: دار الفكر)*
(أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري.
وفي رد المحتار: وفي تصحيح القدوري عن الجواهر: وفي هذا الزمان إذا سكر من البنج والأفيون يقع زجرا، وعليه الفتوى، وتمامه في النهر.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce