سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی استاد مجھے میرے حق سے زیادہ نمبر دے دے تو کیا مجھے اسے اس بارے میں بتانا چاہیے؟ مثال کے طور پر امتحان دینے کے بعد میں نے اپنے نمبر خود حساب کیے تو زیادہ سے زیادہ 50 میں سے 35 نمبر بنتے تھے، لیکن استاد نے مجھے 50 میں سے 45 نمبر دے دیے۔ حالانکہ میں نے 10 نمبر کا ایک سوال بالکل خالی چھوڑ دیا تھا تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے ضروری ہے کہ میں استاد کو اس غلطی سے آگاہ کروں؟
جواب: واضح رہے کہ کسی طالب علم کے لیے امتحان میں نقل کرنا یا کوئی دوسرا ناجائز ذریعہ استعمال کرکے (مثلاً: رشوت وغیرہ دے کر) اپنے نمبرات بڑھوانا ناجائز اور گناہ کا کام ہے، لیکن اگر طالب علم نے ایسی کوئی حرکت نہ کی ہو بلکہ استاد محترم نے اپنی طرف سے کچھ اضافی نمبر دیدیے ہوں تو اس صورت میں طالب علم کو اس پر خاموشی اختیار کرلینی چاہیے، اس لیے کہ اساتذہ کرام بلاوجہ اضافی نمبر نہیں دیتے بلکہ طالب علم کی کسی اضافی تعلیمی خوبی (مثلاً اسباق میں مسلسل حاضری، بروقت اسائنمنٹ جمع کرانا وغیرہ) کی وجہ سے اس کو کچھ اضافی نمبر دیدیتے ہیں، اسی طرح کبھی پرچہ مشکل ہونے کی وجہ سے استاد طلبہ کے نمبرات میں مناسب اضافہ کر دیتے ہیں تاکہ طلبہ کا فیصد نتیجہ اور گریڈ خراب نہ ہو اور یہ طریقہ کار مختلف امتحانی بورڈز میں رائج ہے، بہر حال جب تک استاذ کی غلطی یا بددیانتی واضح طور پر معلوم نہ ہو جائے، اس کے کام میں مداخلت کرنے کے بجائے محنت کرکے اگلے امتحان میں اُن کے اس اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (الحجرات، الایة: 12)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌo
سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 3580، ط: دار الرسالة العالمیة)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالمُرْتَشِيَ.
رد المحتار: (362/5، ط: دار الفکر)
الرِّشْوَةُ بِالْكَسْرِ مَا يُعْطِيهِ الشَّخْصُ الْحَاكِمَ وَغَيْرَهُ لِيَحْكُمَ لَهُ أَوْ يَحْمِلَهُ عَلَى مَا يُرِيدُ.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی