resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مریض کو MRI یا CT Scan کے لیے مخصوص لیبارٹری(Laboratory) بھیج کر ڈاکٹر کے کمیشن لینے کا حکم

(47229-No)

سوال: میں ڈاکٹر ہوں، اگر میں کسی کا پرائیویٹ جگہ سے Mri یا CT scan کرواتا ہوں تو وہ عام ریٹ سے کم قیمت میں کرتے ہیں، لیکن اس کے اوپر جو پیسے ہوتےہیں، وہ ڈاکٹر کے شیئرنگ کے لیتے ہیں، جیسے میں 2500 کا کرواتا ہوں پھر وہ 1000 یا 1500 اوپر لیتے ہیں تو کیا یہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: ڈاکٹر کا مریض کو MRI، CT Scan یا کسی دوسرے ٹیسٹ کے لیے کسی مخصوص لیبارٹری یا تشخیصی مرکز کی طرف رہنمائی کرنے کے عوض کمیشن لینا مطلقاً ناجائز نہیں، بلکہ درج ذیل شرائط کے ساتھ اس کی گنجائش ہے:
1) اگر مطلوبہ ٹیسٹ متعدد لیبارٹریوں یا مراکز میں دستیاب ہو اور ان مراکز کے آلات، نتائج کی صحت، خدمات اور معیار تقریباً یکساں ہوں تو ڈاکٹر مریض کو ان میں سے کسی مناسب مرکز کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے، اور اس رہنمائی پر دیگر شرائط کے ساتھ لیبارٹری والوں سے کمیشن بھی لے سکتا ہے۔
البتہ اگر مطلوبہ ٹیسٹ کسی خاص مرکز میں زیادہ بہتر، قابلِ اعتماد اور معیاری طریقے سے ہوتا ہو اور اس کی فیس عام مارکیٹ ریٹ کے مطابق بھی ہوتو ڈاکٹر پر لازم ہے کہ مریض کو اسی بہتر مرکز کی طرف رہنمائی کرے۔ محض کمیشن حاصل کرنے کی خاطر مریض کو کسی کم معیار یا غیر موزوں مرکز کی طرف بھیجنا جائز نہیں اور ایسی صورت میں کمیشن لینا بھی ناجائز ہوگا۔
2) مریض کو واقعی اس ٹیسٹ کی طبی ضرورت ہو۔ محض کمیشن حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری ٹیسٹ تجویز کرنا جائز نہیں۔
3) ڈاکٹر اور لیبارٹری یا تشخیصی مرکز کے درمیان کمیشن کی مقدار پہلے سے واضح اور متعین ہو، تاکہ معاملے میں کسی قسم کا نزاع یا جہالت نہ رہے۔
4) مریض کو اسی مخصوص مرکز سے ٹیسٹ کرانے پر مجبور نہ کیا جائے، بلکہ اسے کسی دوسرے مناسب اور معیاری مراکز سے ٹیسٹ کرانے کا اختیار بھی حاصل ہو۔
5) ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ مریض سے فیس لینے کے بعد اسے اس کی ضرورت کے مطابق ایسی لیبارٹری کی طرف رہنمائی کرے جو بہتر، قابلِ اعتماد اور معیاری ہو، اور اس قسم کی لیبارٹری عام مارکیٹ ریٹ کے مطابق فیس لیتی ہو، لہٰذا اگر کوئی لیبارٹری ڈاکٹر کو کمیشن دینے کے لیے ٹیسٹ کی اصل یا معمول کی فیس میں اضافہ کرکے اس اضافی رقم کا بوجھ مریض پر ڈالتی ہے تو ڈاکٹر کے لیے مریض کو ایسی لیبارٹری کی طرف بھیجنا جائز نہیں، کیونکہ یہ مریض کے مفاد اور ڈاکٹر کے فرضِ منصبی کے منافی ہے، البتہ اگر لیبارٹری مریض سے اپنی وہی معمول کی مقررہ فیس وصول کرے جو دوسرے مریضوں سے بھی وصول کی جاتی ہے اور اپنی آمدنی میں سے ڈاکٹر کو متعین کمیشن ادا کرے، مریض سے کمیشن کے نام پر کوئی اضافی رقم وصول نہ کرے تو دیگر مذکورہ شرائط کی پابندی کے ساتھ اس کمیشن کی گنجائش ہے۔
لہٰذا سوال میں مذکور صورت میں اگر MRI یا CT Scan کی اصل یا معمول کی قیمت مثلاً 2,500 روپے ہو، لیکن ڈاکٹر کو 1,000 یا 1,500 روپے دینے کے لیے مریض سے اس کے اوپر اضافی رقم وصول کی جاتی ہو تو ڈاکٹر کے لیے یہ اضافی رقم بطورِ ’’شیئر‘‘ یا کمیشن لینا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر مریض سے لیبارٹری کا وہی معمول کا مقررہ ریٹ وصول کیا جائے اور لیبارٹری اپنے اسی ریٹ اور آمدنی میں سے ڈاکٹر کو کمیشن دے، مریض پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے اور مذکورہ تمام شرائط بھی پوری ہوں تو اس کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

البحر الرائق: (162/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وبذل المال فيما هو مستحق عليه حد الرشوة اه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (24/4، ط: دار الكتب العلمية)
لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ

إعلاء السنن: (64/15، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي)
والحاصل: أن حد الرشوة هو ما يؤخذ عوضا عن واجب على الشخص، سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية.

کذا فی الفتوی لجامعة دار العلوم کراتشی: (793/23،24 و 1393/94)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment